پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

جیکب آباد میں ملیریا کی وباء میں خطرناک حد تک اضافہ، سیکڑوں افراد مبتلا

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

جیکب آباد(این این آئی) جیکب آباد میں ملیریا کی وباء میں خطرناک حد تک اضافہ، سینکڑوں افراد مبتلا، محکمہ صحت کی جانب سے ملیریا سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے، ملیریا کے عالمی دن پر بھی محکمہ صحت خاموش۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد اور گردونواح میں ملیریا کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے، شہر اور گردونواح میں گندگی کی وجہ سے مچھروں کے یلغار سے ایک طرفشہریوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔

تو دوسری جانب سینکڑوں افراد جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے مبتلا ہوچکے ہیں ، ملیریا میں اضافے کے باعث سرکاری اور نجی اسپتالوں میں سینکڑوں لوگ ملیریا جیسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوکر داخل ہوچکے ہیں، جیکب آباد میں محکمہ صحت کی جانب سے ملیریا کے روکتھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے مچھروں کے خاتمے کے لیے اسپرے تک نہیں کیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو مچھروں سے بچاؤ کے لیے محکمہ صحت کو جالیاں بھی جاتی ہے مگر وہ شہریوں کو فراہم نہیں کی جارہی جبکہ دوسری جانب محکمہ بلدیہ کی نااہلی کی وجہ سے شہر بھر میں جگہ جگہ گندگی کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہورہا ہے مگر بلدیہ کی جانب سے شہر میں صفائی کو انتظام نہیں کیا جارہا ، ملیریا کے عالمی دن کے موقع پر محکمہ صحت کی جانب سے عوام میں ملیریا سے بچاؤ اور اس سے متعلق پیدا شدہ خدشات اور غلط فہمیوں کے متعلق آگاہی کے لیے کوئی پروگرام نہیں کرایا گیا ،اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالغفار رند نے کہا کہ تحصیل گڑہی خیرو اورتحصیل ٹھل میں مچھر مار اسپرے کرایا ہے جیکب آباد میں اسپرے کرانے کے لیے محکمہ بلدیہ کو کئی بار کہا ہے کہ ہمیں گاڑی فراہم کریں تاکہ اسپرے کیا جائے مگر انہوں نے گاڑی فراہم نہیں کی ، ڈپٹی کمشنرنے بھی بلدیہ حکام سے اسپرے کے متعلق بات کی ہے، انہوں نے کہا کہ جلد جیکب آباد میں بھی مچھر مار اسپرے کرایا جائے گا، دوسری جانب پی ایم اے سندھ کے رہنما ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ پاکستان کا شمار آج بھی ملیریا کے حوالے سے دنیا کے حساس ترین ممالک میں کیا جاتا ہے، ملیریا اینو فلیس نامی مادہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والا متعدی مرض ہے جس کا جراثیم انسانی جسم میں داخل ہو کر جگر کے خلیوں پر حملہ آور ہوتا

ہے اس مرض کی صحیح تشخیص نہ ہونے سے ہر سال پاکستان بھر میں 10 لاکھ کیس رپورٹ ہوتے ہیں، پاکستان میں ملیریا دوسری عام پھیلنے والی بیماری ہے،انہوں نے کہا کہ ملیریا کے وجہ سے ہر سال سینکڑوں اموات ہوتی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق بخار، کپکپی، سر درد، متلی، کمر اور جوڑوں میں درد ملیریا کی بنیادی علامات ہیں، ملیریا کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی

صورت میں یہ مرض جان لیوا ہو سکتا ہے،ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مچھروں سے بچنے کے لیے سب سے پہلے گھر سے پانی کے ذخائر ختم کریں، چھوٹی چھوٹی آرائشی اشیاء سے لے کر بڑے بڑے ڈرموں میں موجود پانی کا ذخیرہ مچھروں کی افزائش کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں،انہیں یا تو ختم کریں یا سختی سے ایئر ٹائٹ ڈھانپ کر رکھیں،سورج نکلنے اور غروب ہونے کے

وقت لمبی آستین والی قمیض پہنیں اور جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپ لیں،جسم کے کھلے حصوں جیسے بازو اور منہ پر مچھر بھگانے والے لوشن کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،گھروں اور دفتروں میں مچھر مار اسپرے اور کوائل میٹ استعمال کریں،دروازوں، کھڑکیوں اور روشن دانوں میں جالی کا استعمال کریں،گھروں کے پردوں پر بھی مچھر مار ادویات اسپرے کریں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…