پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

ٹی بی قابل علاج مرض ، بر وقت تشخیص اور علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ‘پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پرنسپل پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب نے کہا ٹی بی قابل علاج مرض ہے بر وقت تشخیص و علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ڈاکٹرز کو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹی بی کے علاج کا بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کریں ۔انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے مکمل نجات ممکن ہے۔

وہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب اور پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشن کی طرف سے پہلے منعقدہ سالانہ ٹی بی کورس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔کورس کی صدارت پروفیسر آف پلمونالوجی لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے کی جبکہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل مہمان خصوصی اور پرنسپل پروفیسر محمد طیب گیسٹ آف آنر تھے ۔اس کورس میں صوبے بھر سے نامور پروفیسر صاحبان نے شرکت کی اور ٹی بی کے حوالے سے مختلف موضوعات پر 120سے زائد ڈاکٹرز کو اہم طبی امور پر آگاہی دی گئی ۔کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد وحید کا کہنا تھا کہ تپ دق یا ٹی بی ایسا مہلک مرض ہے جس پر تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا اور دنیا بھر کی 33فیصد آبادی کسی نہ کسی مرض سے متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر سال 5لاکھ سے زائد افراد ٹی بی کے جراثیم کی زد میں آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ناخن اور بالوں کے علاوہ ہر طرح کی ٹی بی ہو سکتی ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی میں مبتلا افراد کے علاج کی مدت 6ماہ اور آنتوں کیلئے 1سال جبکہ دماغ کی ٹی بی ہونے کی صورت میں 15ماہ تک ادویات لینا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ کھانسی کے ساتھ وزن تیزی سے کم ہونا شروع ہو اور ہلکا بخار رہے تو بلاتاخیر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص سے مرض شدت اختیار نہ کرے۔مقررین نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر منصوبوں کے تحت پاکستان بالخصوص پنجاب میں ٹی بی پر قابو پانے کیلئے کئی ایک منصوبے شروع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے نجات مل سکتی ہے البتہ اس مرض سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علاج کی

راہ اختیار کریں جبکہ اب پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی بی کے بچاؤ کی مفت ادویات بھی دستیا ب ہیں۔پروفیسر خالد مسعود گوندل اور پروفیسر محمد طیب نے کورس کے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے اُن کی کامیابی کی دعا کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے عالمی یوم تپ دق کے اغراض و مقاصد اور اُس کے خدوخال پر روشنی ڈالی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…