جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی بی قابل علاج مرض ، بر وقت تشخیص اور علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ‘پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پرنسپل پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب نے کہا ٹی بی قابل علاج مرض ہے بر وقت تشخیص و علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ڈاکٹرز کو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹی بی کے علاج کا بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کریں ۔انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے مکمل نجات ممکن ہے۔

وہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب اور پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشن کی طرف سے پہلے منعقدہ سالانہ ٹی بی کورس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔کورس کی صدارت پروفیسر آف پلمونالوجی لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے کی جبکہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل مہمان خصوصی اور پرنسپل پروفیسر محمد طیب گیسٹ آف آنر تھے ۔اس کورس میں صوبے بھر سے نامور پروفیسر صاحبان نے شرکت کی اور ٹی بی کے حوالے سے مختلف موضوعات پر 120سے زائد ڈاکٹرز کو اہم طبی امور پر آگاہی دی گئی ۔کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد وحید کا کہنا تھا کہ تپ دق یا ٹی بی ایسا مہلک مرض ہے جس پر تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا اور دنیا بھر کی 33فیصد آبادی کسی نہ کسی مرض سے متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر سال 5لاکھ سے زائد افراد ٹی بی کے جراثیم کی زد میں آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ناخن اور بالوں کے علاوہ ہر طرح کی ٹی بی ہو سکتی ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی میں مبتلا افراد کے علاج کی مدت 6ماہ اور آنتوں کیلئے 1سال جبکہ دماغ کی ٹی بی ہونے کی صورت میں 15ماہ تک ادویات لینا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ کھانسی کے ساتھ وزن تیزی سے کم ہونا شروع ہو اور ہلکا بخار رہے تو بلاتاخیر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص سے مرض شدت اختیار نہ کرے۔مقررین نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر منصوبوں کے تحت پاکستان بالخصوص پنجاب میں ٹی بی پر قابو پانے کیلئے کئی ایک منصوبے شروع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے نجات مل سکتی ہے البتہ اس مرض سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علاج کی

راہ اختیار کریں جبکہ اب پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی بی کے بچاؤ کی مفت ادویات بھی دستیا ب ہیں۔پروفیسر خالد مسعود گوندل اور پروفیسر محمد طیب نے کورس کے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے اُن کی کامیابی کی دعا کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے عالمی یوم تپ دق کے اغراض و مقاصد اور اُس کے خدوخال پر روشنی ڈالی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…