پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ٹی بی قابل علاج مرض ، بر وقت تشخیص اور علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ‘پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پرنسپل پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب نے کہا ٹی بی قابل علاج مرض ہے بر وقت تشخیص و علاج سے زندگی بچ سکتی ہے ڈاکٹرز کو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹی بی کے علاج کا بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کریں ۔انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے مکمل نجات ممکن ہے۔

وہ پاکستان چیسٹ سوسائٹی پنجاب اور پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشن کی طرف سے پہلے منعقدہ سالانہ ٹی بی کورس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔کورس کی صدارت پروفیسر آف پلمونالوجی لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے کی جبکہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل مہمان خصوصی اور پرنسپل پروفیسر محمد طیب گیسٹ آف آنر تھے ۔اس کورس میں صوبے بھر سے نامور پروفیسر صاحبان نے شرکت کی اور ٹی بی کے حوالے سے مختلف موضوعات پر 120سے زائد ڈاکٹرز کو اہم طبی امور پر آگاہی دی گئی ۔کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خالد وحید کا کہنا تھا کہ تپ دق یا ٹی بی ایسا مہلک مرض ہے جس پر تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا اور دنیا بھر کی 33فیصد آبادی کسی نہ کسی مرض سے متاثر ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر سال 5لاکھ سے زائد افراد ٹی بی کے جراثیم کی زد میں آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ناخن اور بالوں کے علاوہ ہر طرح کی ٹی بی ہو سکتی ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی میں مبتلا افراد کے علاج کی مدت 6ماہ اور آنتوں کیلئے 1سال جبکہ دماغ کی ٹی بی ہونے کی صورت میں 15ماہ تک ادویات لینا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ کھانسی کے ساتھ وزن تیزی سے کم ہونا شروع ہو اور ہلکا بخار رہے تو بلاتاخیر مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص سے مرض شدت اختیار نہ کرے۔مقررین نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر منصوبوں کے تحت پاکستان بالخصوص پنجاب میں ٹی بی پر قابو پانے کیلئے کئی ایک منصوبے شروع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے با قاعدہ8ماہ کے علاج سے ٹی بی کے مرض سے نجات مل سکتی ہے البتہ اس مرض سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علاج کی

راہ اختیار کریں جبکہ اب پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی بی کے بچاؤ کی مفت ادویات بھی دستیا ب ہیں۔پروفیسر خالد مسعود گوندل اور پروفیسر محمد طیب نے کورس کے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے اُن کی کامیابی کی دعا کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد وحید نے عالمی یوم تپ دق کے اغراض و مقاصد اور اُس کے خدوخال پر روشنی ڈالی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…