اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

سمندری حرارت بحری حیات کےلیے جنگل کی آگ ثابت ہورہی ہے : رپورٹ

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اگر سمندروں کا درجہ حرارت پانچ دن کے لیے بھی بڑھ جائے تو اس کے تباہ کن اثرات ہوتے ہیں جو سمندری حیاتیات، مرجانی چٹانوں اور مونگوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 29 برس (1987 سے 2016 تک) میں حرارتی لہر (ہیٹ ویو) والے ایام کی

شرح 50 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ یہ سمندری جنگلات کے لیے ایک بری خبر ہے جنہیں ہم مونگے اور مرجان کی چٹانوں کی صورت میں جانتے ہیں۔برطانیہ میں میرین بائلوجیکل ایسوسی ایشن( ایم بی اے) سے وابستہ پروفیسر ڈین اسمیل کا کہنا ہے کہ ہم سمندری گھاس کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ رہے ہیں ۔ صرف چند ہفتوں یا مہینوں میں سینکڑوں کلومیٹر ساحلی پٹی پر قیمتی سمندری گھاس غائب ہورہی ہے۔ماہرین نے اس ضمن میں 116 تحقیقی مقالوں اور سروے کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس طرح کیریبیئن کورال ریفس ( مرجانی چٹانوں)، آسٹریلیا کی سمندری گھاس اور کیلیفورنیا کے سمندری جنگلات بطورِ خاص نقصان ہوا ہے جو اب تک جاری ہے۔ ماہرین نے بحرِ ہند میں بھی ایسی ہی تباہی کی پیشگوئی بھی کی ہے۔اس نقصان سے سمندری غذا اور وسائل استعمال کرنے والے شدید متاثر ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندری ہیٹ ویو کاسلسلہ اب بڑھتا رہے گا اور اب بھی وقت ہے کہ ہم اس کے ازالے کے اقدامات کریں۔ اس سے قبل ماہرین کہہ چکے ہیں کہ سمندری حدت بڑھنے سے دنیا بھر میں مچھلیوں کی تعداد 4 فیصد تک کم ہوچکی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…