بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا میں پہلی بار 32 کلو میٹر کی دوری سے ہارٹ آپریشن کرنے کا دعویٰ

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

بھارت (مانیٹرنگ ڈیسک) ویسے تو گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں میڈیکل سائنس نے بے انتہا ترقی کی ہے اور اب امریکا سے لے کر برطانیہ اور بھارت سے لے کر چین تک روبوٹ ٹیکنالوجی سے بھی اس حوالے سے مدد لی جا رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بھی ملک کے بڑے ہسپتالوں میں شمار ہونے والے جناح ہسپتال میں بھی روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر جیسے موضی مرض کا علاج کیا جا رہا ہے۔

تاہم پڑوسی ملک بھارت کے ڈاکٹرز اور ریاست گجرات کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا میں پہلی بار 32 کلو میٹر کی دوری سے ایک مریض کے دل کی اینجیو پلاسٹی کی ہے۔ جی ہاں، ڈاکٹرز اور ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید انٹرنیٹ اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے 32 کلو میٹر دوری پر موجود مریض کی کامیاب اینجیو پلاسٹی کی گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دل کے مانے جانے والے ماہرین امراض قلب میں شمار ہونے والے ڈاکٹر تیجاس پٹیل نے ریاست گجرات کے شہر گاندھی نگر کے مندر کی حدود میں بیٹھ کر احمد آباد کے ہسپتال میں داخل ایک خاتون مریض کی اینجیو پلاسٹی کی۔ رپورٹ کے مطابق احمد آباد اور گاندھی نگر کے درمیان 32 کلو میٹر کا فاصلہ ہے، تاہم انٹرنیٹ اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاکٹر تیجاس پٹیل نے خاتون کی کامیاب اینجیو پلاسٹی کی۔ اس آپریشن کو مقامی صحافیوں کی نگرانی میں براہ راست بھی دکھایا گیا اور بعد ازاں اس کی ویڈیوز بھی جاری کی گئیں۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر تیجاس پٹیل ایک کمپیوٹر کی مدد سے خود سے کئی کلو میٹر دور ہسپتال کے بیڈ پر پڑے مریض کا روبوٹ کے ذریعے آپریشن کر رہے ہیں۔ ویڈیو کے دوران وہ بتاتے بھی نظر آتے ہیں کہ مریض ان سے 32 کلو میٹر دور ہے اور ہو انٹرنیٹ اور ہسپتال میں موجود روبوٹک ہاتھ کی مدد سے خاتون کی اینجیو پلاسٹی کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ جس خاتون کی اینجیو پلاسٹی کی گئی اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور ان کے دل کی شریانیں بند ہوگئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اب تک ڈاکٹر تیجاس پٹیل اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے 2 سال کے اندر 300 سے زائد آپریشن کر چکے ہیں، تاہم پہلی بار انہوں نے دور سے مریض کا آپریشن کیا اور اسے براہ راست بھی دکھایا۔ دنیا میں پہلی بار ہونے والے اس منفرد آپریشن کو میڈیکل کی دنیا میں بہت بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے دنیا بھر کے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…