بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بغیر ائیرکنڈیشنر کے بھی گرمی دور بھگانا بہت آسان

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہر گزرتے سال کے ساتھ موسم گرما میں درجہ حرارت آسمان کو چھو رہا ہے جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی اس مشکل کو زیادہ بدترین کردیتی ہے ،یقیناً آپ کو بھی اس کا تجربہ تو ہوا ہی ہوگا؟ اکثر تو آپ کا دل کرتا ہوگا کہ کسی سوئمنگ پول میں چھلانگ لگادیں یا ٹھنڈا مشروب اپنے منہ کو لگالیں مگر کچھ سادہ اور کم خرچ طریقوں کے ذریعے بھی آپ گرم موسم کی مشکلات کو کافی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

درج ذیل میں ایسے ہی نسخے دیئے جارہے ہیں جن کو آزمانا شرط ہے فائدے کے قائل آپ خود ہی ہوجائیں گے۔ گرمی کا اثر دور بھگانے والے مشروبات پردے بند کریں اگر تو کھڑکیوں پر پردے نہیں تو وہاں سے سورج کی روشنی گھر یا کمرے کے اندر آکر اسے گرم کردیتی ہے۔ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف انرجی کے مطابق پردے یا بلائنڈز بند کرکے آپ اس گرمی کو 45 فیصد تک روک سکتے ہیں۔ پودینے کی چائے پودینے کی چائے کو تیار کریں اور پھر فریج میں رکھ دیں، ایک بار جب وہ صحیح معنوں میں ٹھنڈی ہوجائے ، اس کو نوش کریں اور اگر دل کرے تو کسی اسپرے بوتل میں ڈال کر اپنے اوپر چھڑکاﺅ کریں۔ یہ پانی سے زیادہ بہتر ہوگا کیونکہ چائے میں پودینے کے باعث شامل ہوجانے والا مینتھول آپ کی جلد کو ٹھنڈک اور جھنجھناہٹ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ گالوں اور پیروں کو ٹھنڈا کریں گال اور ایڑیاں ایسی شریانوں سے بھری ہوتی ہیں جو ٹھنڈک سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی، برف کی تھوڑی مقدار یا ٹھنڈے کپڑے کو ان حصوں پر رکھ کر 5 منٹ میں جسمانی درجہ حرارت کو 50 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، ایسا گردن اور بغلوں پر کرنا بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ معدے کی گرمی کو دور کرنا چاہتے ہیں؟ عام چیزوں کو اے سی بنادینا پانی کی کچھ بوتلیں فریز کریں اور انہیں کسی فرشی یا ڈیسک فین کے سامنے رکھ دیں اور پھر آپ اس عارضی ائیرکنڈیشنر سے خارج ہونے والی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ کچھ ماہرین کے مطابق پانی میں نمک کو ڈال کر فریز کرنا گرمی کو دیر تک شکست کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

نیلا رنگ ایک امریکی تحقیق کے مطابق جو لوگ نیلے رنگ سے رنگے کمروں میں بیٹھتے ہیں وہ دیگر رنگوں کے کمروں کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، چاہے درجہ حرارت یکساں ہی کیوں نہ ہو۔ تحقیق کے مطابق نیلا رنگ نفسیاتی طور پر لوگوں کو سکون پہنچاتا ہے اور اسی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ زیادہ پانی جسم میں معمولی ڈی ہائیڈریشن بھی جسم کی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایک امریکی تحقیق کے مطابق اگر جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو تو پیشاب کی رنگت زرد یا شفاف پیلے رنگ کی ہوجاتی ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو زیادہ درجہ حرارت سے بچاتا ہے۔ برفانی چادریں اپنے بستر کو چادروں اور تکیوں کے غلاف سے ٹھنڈا کریں، انہیں پلاسٹک بیگز میں رکھ کر فریزر میں کچھ گھنٹوں کے لیے رکھ دیں۔ اس کے بعد سونے سے کچھ دیر پہلے ہی بستر پر رکھ دیں اور پھر اے سی جیسے ماحول میں میٹھی نیند کا مزہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…