اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

زندگی کے آخری لمحے میں جسم کے اندر کیا ہوتا ہے؟

datetime 2  مارچ‬‮  2018 |

جرمنی (مانیٹرنگ ڈیسک) زندگی کے آخری لمحے میں انسانی جسم کے اندر کیا ہوتا ہے ؟ اس راز کو جاننے کا دعویٰ سائنسدانوں نے کیا ہے۔ یہ دعویٰ جرمنی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مرنے سے پہلے یا زندگی کے آخری لمحے میں برقی سرگرمی کی ایک لہر دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے قریب المرگ مریضوں کی دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا۔

تاکہ جان سکیں کہ آخری لمحات میں جسم کے سب سے اہم عضو کس طرح کام کرنا بند کرتا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ جب جسم کے دیگر حصوں میں زندگی کے آثار ختم ہوجاتے ہیں تو بھی ذہنی شعور کچھ منٹ تک باقی رہتا ہے اور یہ پانچ منٹ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ چریٹی یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران دماغی ماہرین کی ٹیم نے نو ایسے افراد کے دماغوں کے برقی سگنل کا جائزہ لیا جو انتقال کرگئے تھے۔ برلن اور سنسناٹی سے تعلق رکھنے والے ان تمام انتقال کر جانے والے مریضوں کو جان لیوا دماغی انجری کا سامنا تھا اور ماہرین نے ان کے سر پر الیکٹروڈز نصب کیے تھے تاکہ مرنے کے عمل کا میکنزم دیکھ سکیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کسی فرد کے دل کی دھڑکن تھمنے کے پانچ منٹ بعد تک بھی دماغی خلیات کام کرسکتے ہیں۔ مگر جب خلیات کام کرنا بند کرتے ہیں، اس لمحے ایک برقی لہر سی دماغ میں دوڑتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ جب یہ برقی لہر دوڑتی ہے تو دماغی خلیات کو توانائی دینے والے محفوظ الیکٹروکیمیکلز ختم ہونے لگتے ہیں اور موت کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اس عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے، خلیات اس وقت مرتے ہیں جب خون کی گردش تھمتی ہے اور آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے جنھیں یہ خلیات اپنے افعال کے لیے توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو دماغی خلیات وہ محفوظ توانائی استعمال کرتے ہیں۔

جو چند منٹ تک انہیں کام کرنے کا موقع دیتی ہے جس کے بعد وہ مکمل طور پر مرجاتے ہیں۔ اس پراسیس کو اسپریڈنگ ڈپریشن بھی کہا جاتا ہے جس کے دوران عصبی خلیوں میں ایک برقی رو دوڑتی ہے جس کے بعد اچانک خاموش ہوجاتے ہیں۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس عمل کا دورانیہ کتنا ہوسکتا ہے، اس بارے میں ابھی بحث کی جاسکتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Annals of Neurology میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…