منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کمپیوٹر اب سرطان کے ڈاکٹر جیسا ماہر

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب جلد کے سرطان کی نشاندہی کمپیوٹر کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کی طرح تصویر دیکھ کر کی جا سکے گی۔امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق یہ دریافت ’انتہائی دلچسپ‘ ہے اور اس کی آزمائش اب کلینکس میں کی جائے گی۔مصنوعی ذہانت کا یہ نظام گوگل کے

ایک سافٹ ویئر پر مبنی ہے جس نے بلیوں اور کتوں کے درمیان فرق کرنا سیکھا۔اس نظام کو 450،129 تصاویر دکھانے کے ساتھ ساتھ ہر ایک تصویر میں موجود جلد کی حالت سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں نظام نے جلد کے سب سے عام سرطان کارسینوما اور سب سے مہلک میلانوما کی نشاندہی کرنا سیکھی۔میں سے صرف ایک جلد کا سرطان میلانوما ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رسولی دو ہزار پھچتر 75 فیصد ہلاکتوں کا باعث بنتی ہے۔سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے اس تجربے میں مصنوعی ذہانت کے نتائج کا موازنہ 21 تربیت یافتہ ڈاکٹروں سے کیا گیا۔ اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر اینڈرے ایسٹیوا نے بی بی سی کو بتایا کہ عمومی طور پر اس کے نتائج ماہرینِ امراض جلد کے برابر ہیں۔مگر کمپیوٹر سافٹ ویئر والا یہ نظام مکمل تشخیص نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بائیوپسی یا جسم سے لیے گئے بافت کا معائنہ کر کے حتمی نتیجہ نکالا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایسٹیوا کا کہنا ہے کہ فی الحال کلینکوں میں بیک وقت ڈاکٹروں کے نتائج سے اس نظام کا موازنہ کرنا ہو گا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس نظام کا موبائل ڈیوائس پر استعمال کافی دلچسپ ہو سکتا ہے، جس کے لیے ہمیں ایک ایپ بنانی پڑے گی اور اسے موبائل ڈیوائیس ہی کے ذریعے آزمانا ہو گا۔برطانوی فلاحی ادارے کینسر ریسرچ کی ڈاکٹر یانا وٹ کا کہنا ہے کہ ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے جلد کے سرطان کی تشخیص کافی دلچسپ ہے کیونکہ اس

سے امراض جلد کے ماہر اور ڈاکٹروں کو مدد ملے گی۔’گو کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس معالج کے مقابلے میں تشخیص کرتے ہوئے جس طرح معلومات کو پرکھتا ہے اس کا متبادل نہیں ہو سکتی مگر اس کے ذریعے ڈاکٹر مریض کو ماہرین کی طرف بھیجنے میں مدد حاصل کر سکیں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…