منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اے ٹی ایم کا استعمال صحت کےلئے کیسے نقصان دہ ہے ،نئی ریسرچ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 2  دسمبر‬‮  2016 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اے ٹی ایم بلاشبہ یہ انتہائی مفید ایجاد ہے لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اے ٹی ایم سے نقد رقم کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی آپ کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا ہے؟ یہ دراصل جراثیم ہیں جو سیکڑوں کی تعداد میں آپ کے ہاتھوں سے چپک جاتے ہیں۔
نیویارک میںاے ٹی ایم کے بار ے میں  ایک ریسرچ کی گئی۔

اس ریسرچ کے دوران پتا چلا کہ اے ٹی ایمز جراثیم سے پُر ہوتی ہیں جو صارفین کے ہاتھوں پر منتقل ہوجاتے ہیں۔ منتقلی کا یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب ہم مشین کا کی پیڈ استعمال کرتے ہیں۔ جراثیم یوں تو ہر طرف ہوتے ہیں مگر اے ٹی ایمز کے معاملے میں جراثیم کی تعداد سے زیادہ ان کی اقسام قابل تشویش ہوسکتی ہیں۔ اے ٹی ایمز کے کی پیڈ پر درجنوں اقسام کے جراثیم پائے گئے۔ دوران تحقیق ریسرچ ٹیم نے نیویارک کے مختلف علاقوں میں قائم چھیاسٹھ مشینوں کا خصوصی آلات کی مدد سے جائزہ لیا۔ کی پیڈز پر انھیں انسانی جلد پر پائے جانے والے یک خلوی جان داروں سے لے کر مختلف جگہوں اور ماحول میں رہنے والے جراثیم نظر آئے۔

جراثیم کے علاوہ کی پیڈز سے مختلف غذاؤں کے ننھے ذرات بھی چپکے ہوئے پائے گئے۔ یوں جراثیم کی موجودگی کے علاوہ ماہرین کو یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ کس علاقے میں ان دنوں کون سی غذا زیادہ استعمال کی جارہی ہے۔ مثلاً انھیں پتا چلا کہ چائنا ٹاؤن میں مچھلی کا استعمال عروج پر تھا، مرکزی ہارلیم کے باسی مرغی شوق سے کھار ہے تھے، جب کہ مین ہٹن کے باسیوں کا زور اُبلی ہوئی غذائیں کھانے پر تھا۔ اے ٹی ایمز کے کی پیڈز پر موجود جراثیم کا تجربہ گاہ میں تجزیہ کرنے کے بعد سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر بے ضرر تھے۔ تاہم کچھ جراثیم سے صارفین مختلف امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں، جیسے کہ Trichomonas Vaginalis اور Tosoplasmaنامی طفیلیوں کی وجہ سےکئی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔ماہرین نے کہاکہ اے ٹی ایم کااستعمال ضرورکرناچاہیے لیکن اس کےلئے حفاظتی دستانے ضرورہاتھوں پرپہن لینے چاہیے تاکہ ان جراثیم سے بچاجاسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…