بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

خالی دماغ شیطان کا گھر نہیں ہوتا ، نئی تحقیق جاری

datetime 2  اگست‬‮  2016 |

لاہور (نیوزڈیسک) گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح کا تصور دوستوں ، ہمجولیوں یا پھر ان افراد کے ساتھ سے نتھی ہوتا ہے جن کی محفل میں ہم لطف اٹھاتے ہیں لیکن ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ کبھی کبھار تنہا وقت گزارنا بھی مفید ہوتا ہے۔ یہاں تنہا وقت گزارنے سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ جس وقت آپ فارغ ہوں تو اپنے کمرے کی کھڑکی سے تنہا کھڑے ہوکے باہر جھانکیں یا پھر چھٹی کا دن بستر میں تنہا کروٹیں بدلتے گزار دیں بلکہ اس سے مراد ان سرگرمیوں میں تنہا حصہ لینا ہے جن میں عام طور پر یہ سوچ کے حصہ نہیں لیا جاتا ہے کہ ان میں دوستوں کے بغیر کیسا مزہ؟
”امپرفیکٹ سپریچوئیلٹی“ کی مصنفہ پولی کیمپبیل نے اس موضوع پر ایک تحقیق کی ہے اور پہلے سے دستیاب تحقیقات کے تجزئیے سے ثابت کیا ہے کہ دراصل تنہا وقت گزارنے میں کوئی ہرج نہیں ہے اور یہ انسان کے اندر کا خوف ہوتا ہے جو کہ اسے تنہا ہونے سے روک دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مارکیٹنگ کی پروفیسر ربیکا ریٹنر اور ربیکا ہملٹن نے ایک سروے میں یہ جانا تھا کہ لوگوں نے تنہا گھوم پھر کے زیادہ لطف اٹھایا تاہم ان کیلئے اصل مسئلہ یہ تھا کہ دوسرے ان کی جانب دیکھ کے کیا سوچتے ہوں گے۔ علم نفسیات اس خیال کو ”سپاٹ لائٹ افیکٹ“ کا نام دیتا ہے جس کی وجہ سے ہر فرد یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ دوسرے ہمیں دیکھ کے کیا سوچتے ہوں گے۔ یہ خیال ہماری حرکات و سکنات کو بھی متاثر کرتا ہے اور ہمارے افعال بھی اسی سوچ کے طابع ہوجاتے ہیں۔ اسی موضوع پر ٹامس گلووچ نے بھی ایک تحقیق کی ہے جس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ سپاٹ لائٹ افیکٹ کی وجہ سے اکثریت تفریح کے وہ مواقع گنوادیتی ہے جن سے وہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، انسانی ذہن یہ مفروضہ باندھ لیتا ہے کہ دوسرے ہمیں تنہا تفریح کرتا دیکھ کے یہ سوچیں گے کہ شائد ہمارا ساتھ دینے کیلئے کوئی نہیں ہے، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، دوسروں کے پاس ہمارے بارے میں سوچنے کیلئے کوئی وقت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے لاشعور کی بنیاد پر خود کو تنہا کرنے سے مت گھبرائیں بلکہ جب بھی موقع ملے، اس تنہائی کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور گھومیں پھریں، تفریح کریں، ان جگہوں پر جائیں جہاں آپ کبھی جایا کرتی تھیں اور وہ کھانے کھائیں جن کا لطف آج بھی آپ کے منہ میں پانی لے آتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…