پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

گردن کی درد،سوتے وقت یہ طریقہ آزما کر دیکھیں

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک ) گردن میں بل، موچ یا کھچاﺅ ایک ایسی تکلیف ہے کہ جو متاثرہ شخص کو ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتی۔ اس کا شکار بننے والے اکثر لوگ رات کو اچھے بھلے سوتے ہیں لیکن صبح گردن میں شدید درد کی وجہ سے بالکل بے بس نظر آتے ہیں۔اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے پہلے تو یہ جان لیں کہ آپ کی ریڑھی کی ہڈی کے تین بڑے حصے ہیں جنہیں لمبر، تھوریسک اور سروائیکل سپائن کہا جاتا ہے۔ ان میں سے آخری حصہ ہی وہ جگہ ہے جو گردن کے درد کا مرکز بنتی ہے۔ امریکی فزیکل تھراپسٹ مائیک رینالڈ بتاتے ہیں کہ گردن کے اس حصے میں ریڑھ کی ہڈی پر مہروں کے درمیان موجود جوڑوں کو استعمال کرکے ہم اپنی گردن اور سر کو حرکت دیتے ہیں۔ نیند کے دوران اگر سر کا وزن غلط زاویے پر دباﺅڈالتا رہے تو ان جوڑوں میں سوزش اور کھنچاﺅپیدا ہوجاتا ہے اور ان میں اس قدر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ سر کو حرکت دینا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اس مسئلے سے بچنے کیلئے ایسی پوزیشن میں سوئیں کہ جس میں آپ کا سر آگے، پیچھے یا اطراف میں بہت زیادہ جھکنے یا مڑنے کا امکان نہ ہو۔ اگر آپ پیٹ کے بل سوئیں گے تو آپ کا سر قدرتی طور پر ایک طرف کو جھک جائے گا۔ کمر کے بل لیٹنا بہترین ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں آپ کا سر تکیے پر ٹکا ہوتا ہے اور گردن کے مڑنے یا سر کے جھکنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ نرم اور آرام دہ تکیہ استعمال کریں، اور یاد رکھیں کہ اگر صبح اٹھنے پر گردن میںد رد کا احساس ہورہا ہو تو اس پر دباﺅ ڈالنے، مزید کھینچے یا انگڑائی لینے کی غلطی ہرگز نہ کریں ، کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ انتہائی شدید ہو جائے گا اور درد ناقابل برداشت ہو گا۔اس کی بجائے گرم پانی سے نہائیں اور متاثرہ جگہ کی نرمی سے مالش کریں، اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…