منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

گردن کی درد،سوتے وقت یہ طریقہ آزما کر دیکھیں

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک ) گردن میں بل، موچ یا کھچاﺅ ایک ایسی تکلیف ہے کہ جو متاثرہ شخص کو ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتی۔ اس کا شکار بننے والے اکثر لوگ رات کو اچھے بھلے سوتے ہیں لیکن صبح گردن میں شدید درد کی وجہ سے بالکل بے بس نظر آتے ہیں۔اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے پہلے تو یہ جان لیں کہ آپ کی ریڑھی کی ہڈی کے تین بڑے حصے ہیں جنہیں لمبر، تھوریسک اور سروائیکل سپائن کہا جاتا ہے۔ ان میں سے آخری حصہ ہی وہ جگہ ہے جو گردن کے درد کا مرکز بنتی ہے۔ امریکی فزیکل تھراپسٹ مائیک رینالڈ بتاتے ہیں کہ گردن کے اس حصے میں ریڑھ کی ہڈی پر مہروں کے درمیان موجود جوڑوں کو استعمال کرکے ہم اپنی گردن اور سر کو حرکت دیتے ہیں۔ نیند کے دوران اگر سر کا وزن غلط زاویے پر دباﺅڈالتا رہے تو ان جوڑوں میں سوزش اور کھنچاﺅپیدا ہوجاتا ہے اور ان میں اس قدر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ سر کو حرکت دینا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اس مسئلے سے بچنے کیلئے ایسی پوزیشن میں سوئیں کہ جس میں آپ کا سر آگے، پیچھے یا اطراف میں بہت زیادہ جھکنے یا مڑنے کا امکان نہ ہو۔ اگر آپ پیٹ کے بل سوئیں گے تو آپ کا سر قدرتی طور پر ایک طرف کو جھک جائے گا۔ کمر کے بل لیٹنا بہترین ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں آپ کا سر تکیے پر ٹکا ہوتا ہے اور گردن کے مڑنے یا سر کے جھکنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ نرم اور آرام دہ تکیہ استعمال کریں، اور یاد رکھیں کہ اگر صبح اٹھنے پر گردن میںد رد کا احساس ہورہا ہو تو اس پر دباﺅ ڈالنے، مزید کھینچے یا انگڑائی لینے کی غلطی ہرگز نہ کریں ، کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ انتہائی شدید ہو جائے گا اور درد ناقابل برداشت ہو گا۔اس کی بجائے گرم پانی سے نہائیں اور متاثرہ جگہ کی نرمی سے مالش کریں، اور فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…