منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزن کم کرنا ہے تو مائنڈ فل نیس ڈائیٹ اپنائیں

datetime 9  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک بار بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنا بے حد مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ زبان کے چٹخارے رکنے نہیں پاتے ہیں اور دل کو کھانے کی جانب ہاتھ بڑھانے سے روکنا بے حد مشکل ہوتا ہے تاہم ماہرین نے ایک تھراپی ایجاد کی ہے جس کی مدد سے وزن میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تھراپی کا تعلق جسم سے نہیں دل سے ہے۔ دراصل ماہرین کہتے ہیں کہ کھانے پینے سے زیادہ نقصان دہ عمل بنا سوچے سمجھے کھانا ہے۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے یا پھر میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم چپس، بسکٹ، نمکو اور اس جیسے دیگر سنیکس کی کس قدر بڑھ مقدار کھا جاتے ہیں کہ خود ہم کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہوپاتا ہے۔ یاد رکھیئے کہ آپ کے دن بھر کے تین اضافی لقمے آپ کو 100اضافی کیلوریز دے سکتی ہیں اور ایک سال میں یہ اضافی کیلوریز آپ کے وزن میں10پونڈ تک اضافہ کرسکتی ہیں۔
دراصل کھانے پینے کا عمل بھی انسانی جسم کے دیگر خودکار عملیات کی مانند ہوتا ہے جس میں ہمارا جسم خود ہی ردعمل ظاہر کرنا شروع کردیتا ہے، مثال کے طور پر اگر آپ دکھ کے عالم میں کچھ کھاتی ہیں تو دماغ یہ فرض کرلے گا کہ پریشانی اور مسائل کی صورت میں کھانا چاہئے اور پھر ہر بار پریشانی کی صورت میں آپ کے اندر کچھ کھانے کی طلب ہوگی۔ اسی طرح دیگر مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ اس لئے اگر آپ وزن کم کرنا چاہتی ہیں تو اس کیلئے اپنے دماغ کو سوچ سمجھ کے کھانا سکھائیں کہ کب کس وقت کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کس وقت کھانا چاہئے۔علم نفسیات کی زبان میں اس تکنیک کو مائنڈ فل نیس ڈائیٹ کہتے ہیں۔ اس تکنیک میں دماغ کی یہ تربیت کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ منظر میں رہے اور جسم سے ملنے والے سگنلز کو صحیح طور پر سمجھے۔ یہ تکنیک بہت آسان اور چھوٹی چھوٹی تھراپیز پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ بھی منہ میں ڈالنے سے پہلے، خریدنے سے پہلے اور یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ کیا آپ کو واقعی میں اس کی ضرورت ہے، دو تین گہرے گہرے سانس لیں۔سانس لینے کا عمل دماغ تک تازہ آکسیجن کو پہنچائے گا اور آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ کیا واقعی آپ کو اس کی ضرورت ہے یعنی کہ آپ کو بھوک لگی ہے یا پھر یہ محض ذہنی دباو¿ ہے جس سے چھٹکارے کیلئے آپ کھانا چاہتی ہیں یا پھر محض بوریت ختم کرنے کیلئے آپ کھانا چاہتی ہیں۔
یاد رہے کہ علم نفسیات کی اس تکنیک کو مختلف تحقیقات سے ثابت کیا جاچکا ہے، اس لئے اسے محض توجہ حاصل کرنے کا ایک نیا ڈھنگ سمجھنا غلطی ہے۔اس تھراپی کی مدد سے ذہنی دباو¿ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ درد کی شدت کم ہوتی ہے، ڈپریشن کی شدت کو دبایا جاسکتا ہے اور سب سے بڑھ کے یہ قوت مدافعت کو بہتر بناتی ہے۔ اس حوالے سے ڈیوک یونیورسٹی سینٹر فار انٹیگریٹو میڈیسن میں کی گئی اس تحقیق میں ماہرین نے جب یہ عام افراد پر تجربہ کیا تو وہ لوگ جو کہ کھانے پینے کے معاملے میں شدید دباو¿ کا شکار رہتے تھے، ان کی خود پر جبر کی عادت بہتر ہوئی اس سے نہ صرف ان کا وزن کم ہوا بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی نصیب ہوا۔
مائینڈ فل نیس تھراپی کا واحد نقصان یہ ہے کہ یہ ڈائٹنگ کے مروجہ طریقوں کی مانند فوری نتائج نہیں ظاہر کرتی ہے بلکہ اس پر عمل درآمد ایک سال سے ڈیڑھ برس کے بیچ تک جاری رکھنا پڑتا ہے تب کہیں جا کے جسم میں فرق محسوس ہونا شروع ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…