بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

دودھ پینا دماغی صحت کے لیے بہت مفید ہے

datetime 28  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )برسوں سے دودھ پینے کو ہڈیوں کی مضبوطی کی ضمانت تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن دودھ کی افادیت کےحوالے سے ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ دودھ پینا ہماری دماغی صحت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔کینساس میڈیکل یونیورسٹی میں منعقد ہوئی تحقیق میں دودھ کی کھپت اور دماغ میں پیدا ہونے والے طاقتور ترین اینٹی آکسیڈنٹ کی قدرتی پیداوار کے درمیان تعلق ظاہر ہوا ہے۔ یونیورسٹی آف کینساس کے شعبئہ عصبی سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ان ینگ چوئی اور شعبہ ڈائیٹ اور غذائیت کی سربراہ پروفیسر ڈبیرا سلیون نےمل کر ایک منصوبے پرکام کیا ہے۔ ان کا کام سائنسی رسالے امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن’ میں شائع ہوا ہے جس میں محققین نے دریافت کیا کہ دودھ کی یومیہ کھپت اور دماغ میں قدرتی طور پر واقع ہونے والے مانع تکسید مادہ یا اینٹی آکسیڈنٹ ‘گلوٹا تھائی اون’ کی مقدار کے درمیان اہم تعلق تھا جو دماغ کے خلیوں کو فری ریڈیکلز کے نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے۔پروفیسر سلیون کے مطابق عام طور پر لوگ دودھ کی یومیہ کھپت یعنی تین گلاس کا کم ہی استعمال کرتے ہیں لیکن مطالعے میں ان شرکائ کے دماغ میں گلوٹا تھائی اون کی اعلی سطح پائی گئی جو اس مقدار سے قریب تھے، خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں میں دودھ پینےکا فائدہ نظر آیا ہے۔سائنسدان اس سادہ مولیکیول گلوٹا تھائی اون کو مدر آف اینٹی آکیسیڈنٹس کا نام دیتے ہیں۔ اسے قدرتی مدافعتی نظام کا استاد اور زہریلا مواد دور کرنے کے عمل ڈیٹوکس کا ماسٹر کہا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس آکسیڈنٹ کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ یہ ہمارے جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے اور عام طور پر جسم میں ری سائیکل ہو تا ہے سوائے اس وقت جب جسم میں زہریلا مواد کا لوڈ زیادہ بڑا ہو جائے۔لیکن بری خبر یہ بھی ہے کہ غیر صحت مند غذا آلودگی، ٹوکسن، تابکاری،ادویات، انفیکشن، عمر، تناو¿ اور صدمے کی وجہ سے ہمارا دماغ اس طاقتور ترین اینٹی آکسیڈنٹ سےخالی ہوتا جاتا ہے جس سے ہمیں خطرناک بیماریاں آگھیرتی ہیں۔محقق چوئی نے مطالعے میں 60 شرکاءسے ان کی غذائی عادات کے بارے میں سوالات کئے اوردماغ کے اسکین کی مدد سے طاقتور ترین اینٹی آکسیڈنٹ گلوٹا تھائی اون کی سطح کی نگرانی کی۔ محققین کو پتہ چلا کہ شرکاءجنھوں نے حال ہی میں زیادہ دودھ پینے کا بتایا تھا ان کے دماغ میں اس اینٹی آکسیڈنٹ کی اعلی سطح تھی۔محققین نے کہا یہ نتیجہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ دماغ میں تکسیدی دباو¿ کو کم کر سکتا ہے اور عمل تکسید کے دوران کیمیائی مرکبات کے ردعمل سے پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات سے دماغی خلیات کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کے اس تکسیدی دباو¿ کو مختلف بیماریوں اور کیفیات مثلاً الزائمر، آٹزم، پار کنسن اور دیگر دماغی امراض کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ آپ اسے بنیادی طور پر گاڑی پر لگنے والے زنگ سے پہنچنے والا نقصان تصور کر سکتے ہیں۔ اگر اسے اسی طرح طویل عرصے تک چھوڑ دیا جائے تو اس میں اضافہ ہو گا اور یہ نقصان دہ اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔پروفیسر چوئی کے مطابق تجربے میں ہائی ٹیک اسکیننگ کے سامان کی مدد سے صحت اور بیماری سے متعلق دماغ میں واقع ہونے والے پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے اور اعلیٰ مقناطیسی ٹیکنالوجی نے ہمیں منفرد پوزیشن میں دماغ کی بہترین تصاویر حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ دماغ پر دودھ کی کھپت کے اثر کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…