منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے جوہری سائنسدان کو سزا کیوں دی ، کلک کر کے جانیں

datetime 29  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔۔امریکہ کے ایک سابق جوہری سائنسدان کو وینزویلا کو جوہری بم بنانے کی تفصیلات فراہم کرنے کی کوشش کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔پیڈرو لیونارڈو میسکرونی کا تعلق لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے تھا جہاں امریکہ کا پہلا ایٹم بم تیار کیا گیا تھا۔79 سالہ پیڈرو میسکرونی کا آبائی وطن ارجنٹائن ہے اور انھوں نے سنہ 2013 میں اعترافِ جرم کیا تھا۔ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ کو بھی ایک سال قید کی سزا دی گئی ہے۔پیڈرو نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ کو وینزویلا کا اہلکار تصور کر کے انھیں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔امریکی حکام نے مسیکرونی پر یہ الزام عائد کرنے سے قبل تقریباً ایک سال تک انھیں زیرِ نگرانی رکھا۔ایف بی آئی نے ان کی رہائش گاہ سے کمپیوٹر، خطوط، تصاویر اور کتابیں بھی قبضے میں لی تھیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق پیڈرو نے ایف بی آئی کے ’انڈر کوور‘ ایجنٹ کو بتایا کہ وہ وینزویلا کی اتنی مدد کر سکتے ہیں کہ وہ دس برس میں جوہری بم تیار کر سکتا ہے۔جب امریکی حکام نے ان کا یہ خیال مسترد کر دیا کہ ہائیڈروجن فلورائیڈ لیزر کی مدد سے جوہری توانائی پیدا کی جا سکتی ہے، تو وینزویلا سے رابطہ کیا۔
پیڈرو میسکرونی
ان کا کہنا تھا کہ ان کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے وینزویلا پلوٹونیم کی پیداوار اور افزودگی کے لیے زیرِ زمین خفیہ جوہری ری ایکٹر بنا سکے گا۔پیڈرو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ وینزویلا جوہری توانائی بھی پیدا کر سکے گا۔وہ ایک دہائی تک لاس الاموس تجربہ گاہ میں جوہری ہتھیاروں کی ڈیزائننگ کے شعبے میں کام کرتے رہے اور 1988 میں ان کی نوکری ختم ہوگئی تھی۔پیڈرو کی اہلیہ بھی اسی تجربہ گاہ میں بطور ٹیکنیکل رائٹر کام کرتی رہی تھیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں پیڈرو نے کہا کہ انھوں نے تجربہ گاہ اور بعدازں کانگریس کے حکام کی جانب سے جوہری توانائی کی پیداوار کے بارے میں ان کے خیالات مسترد کیے جانے کے بعد دیگر ممالک سے رابطے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ جب امریکی حکام نے ان کا یہ خیال مسترد کر دیا کہ ہائیڈروجن فلورائیڈ لیزر کی مدد سے جوہری توانائی پیدا کی جا سکتی ہے، تو انھوں نے وینزویلا سے رابطہ کیا۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وینزویلا امریکہ کے جوہری راز حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…