بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک ہے،آئی ایف جے

datetime 31  دسمبر‬‮  2014 |

برسلز۔۔۔۔صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے سنہ 2014 میں دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک ہے۔تنظیم کے مطابق اس سال ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور دوسرے واقعات میں دنیا بھر میں 118 صحافی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ گذشتہ سال 105 صحافی ہلاک ہوئے تھے۔برسلز میں مبنی آئی ایف جے نے بتایا کہ اس کے علاوہ 17 صحافی دوسرے حادثات اور قدرتی آفات میں ہلاک ہوئے جب وہ اپنا کام کر رہے تھے۔واضح رہے کہ آئی ایف جی دنیا بھر کے صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔آئی ایف جی کے مطابق رواں سال پاکستان میڈیا والوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک رہا جہاں 14 صحافیوں نے اپنی جان گنوائی جبکہ اس کے بعد شام کا نمبر رہا جہاں 12 صحافی ہلاک ہوئے۔پاکستان میں سب سے زیادہ 17 صحافی ہلاک ہوئے اور اسلام آباد میں ان کے لیے صحافیوں نے ایک مظاہرہ کیا۔تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نو نو افراد افغانستان اور فلسطین کے خطے میں ہلاک ہوئے جبکہ عراق اور یوکرین میں مرنے والے صحافیوں کی تعداد آٹھ آٹھ رہی۔شام اور عراق میں دولت اسلامیہ نے دو امریکی صحافیوں جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کا سر قلم کیا۔تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صحافیوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں اور اس نے دنیا بھر کی حکومتوں سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیحات میں شامل کرنے کی بات کہی ہے۔
امریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت پر عالمی پیمانے پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔آئی ایف جے کے صدر نے کہا: ’صحافیوں کو درپیش نئے خطرات کے پیش نظر اب عمل کرنے کا وقت ہے کیونکہ انھیں اب صرف معلومات کی فراہمی پر قدغن لگانے کے لیے نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ انھیں تاوان اور سیاسی حربے کے طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں بہت سے میڈیا ہاؤس اپنے نمائندوں کی حفاظت کی خاطر انھیں جنگ زدہ علاقوں میں روانہ کرنا نہیں چاہتے اور مقامی صحافیوں سے کام چلاتے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر میڈیا کے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بہتری لانے میں ناکامی ہوتی ہے تو جنگ کے میدان کی خبریں متاثر ہوں گی اور آزاد ذرائع سے خبریں مشکل ہو جائیں گی۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…