جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کسی کو شہر بند کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا،پرویز رشید

datetime 4  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ دھرنا پاکستان کا نمائندہ نہیں بلکہ دفاعی نمائش ہماری پہچان ہے اور کسی کو شہر بند کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔کراچی میں دفاعی نمائش ا ئیڈیاز 2014 کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی بھرپور دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق جنگی ساز و سامان بنا کر فروخت کرنے کا بھی اہل ہے جب کہ غیر ملکی وفود نے پاکستانی دفاعی اشیا کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے انجینئرز پر فخر ہے ہماری نشانیاں دھرنے نہیں بلکہ مضبوط کرنسی اور معیشت ہے اور پاکستانیوں کی تخلیق اورصلاحیت دفاعی نمائش میں دیکھی دھرنے میں نہیں۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ہم نے روشنیوں کی طرف سفر کرنا شروع کردیاہے، جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کی معیشت سے متعلق منفی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں لیکن ا?ج اسٹاک ایکس چینج 30 ہزارکی سطح عبور کرگئی اورعنقریب 40 ہزار سے بھی اوپر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی وفود کا دفاعی نمائش میں شرکت کرنا اور پاکستانی عسکری مصنوعات میں دلچسپی کا اظہار کرنا پاکستان کی کامیابی ہے اور یہ کسی ایک سیاسی جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ملک کی کامیابی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بحران سے ابھی نکلے نہیں لیکن نکلتے نظر ا?رہے ہیں اور امید ہے کہ ملک سے اندھیروں کا خاتمہ کر کے روشنی لے کر ا?ئیں گے، ہم اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو بھی دیکھتے ہیں لیکن ہمیں اپنی کامیابیوں پرخوش ہونے کا حق بھی حاصل ہے اور کسی کو یہ حق نہیں دے سکتے ہیں وہ ہم سے ہماری خوشیاں چھینے یا اس سے ہمیں محروم رکھ سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…