بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

یوکرین کے بحران پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان رشتہ کشیدہ

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لندن ۔۔۔۔۔یوکرین کے بحران پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان رشتہ کشیدہ ہوتا جا رہا ہے اور پورے یورپ میں فوجی کشیدگی کی خفیف لہریں محسوس کی جا رہی ہیں۔نیٹو نے یوکرین میں روس کی دخل اندازی کے جواب میں کیئف کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنا شروع کیا ہے اور مشرقی اور وسطی یورپ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فضائی نگرانی اور فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق دوسری جانب روس نے اس کے جواب میں زیادہ سرگرم اور بعض لوگوں کے خیال میں زیادہ جارحانہ رخ اختیار کیا ہے اور سرد جنگ کے زمانے جیسی سرگرمی دکھا رہا ہے جس میں وہ نیٹو کے دفاع کو آزمایا کرتا تھا۔لندن میں قائم یورپی لیڈرشپ نیٹ ورک نامی تھنک ٹینک نے ایک تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے جس میں روس کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ وثوق سے بات کی گئی ہے۔’خطرناک دہانہ گیری: سنہ 2014 میں روس اور یورپ کے درمیان قریبی فوجی تصادم نامی اس رپورٹ میں 40 ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جو گذشتہ آٹھ مہینوں میں ہوئے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’اس سے قومی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی پریشان کن تصویر ابھرتی ہے جس میں ایک بڑے جغرافیائی علاقے میں بحرانی کشمکش، فضا میں طیاروں کے ٹکرانے سے بال بال بچنا، سمندر میں قریبی تصادم اور اسی قسم کے مسلسل دوسرے واقعات شامل ہیں۔‘جنگ کے خطرات کو بڑھانے والے واقعات میں انتہائی قریب سے طیارے کی نگرانی کرنا شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل تصادم کے علاوہ ’11 ایسے سنجیدہ واقعات ہوئے ہیں جو جنگ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔‘ان میں نگرانی کرنے والے طیاروں کو ہراساں کرنا، جنگی طیاروں کے اوپر بہت قریب سے طیارہ لے جانا اور روس کے ’نقلی بمبار حملوں کے مشن‘ شامل ہیں۔اس رپورٹ میں ’تین بڑے خطرے والے واقعات‘ کی بطور خاص نشاندہی کی گئی ہے جن سے رپورٹ کے مطابق ’جان و مال کے خطرے یا براہ راست فوجی تصادم کا بہت خطرہ تھا۔‘کوپن ہیگن سے اڑنے والے ایس اے ایس شہری طیارے کا روسی نگرانی کرنے والے جنگی طیارے سے ٹکرانے سے بال بال بچنا بھی شامل ہے جو رپورٹ کے مطابق محض فوجی کھیل نہیں۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ حقیقی خطرات ہیں کیونکہ روسی طیارے اپنی پوزیشن کی نشاندہی کے لیے استعمال میں لائے جانے والے طریقے کا استعمال نہیں کرتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں بہت ہی قریبی جھڑپیں ہوئی ہیں۔تھنک ٹینک نے مجموعی طور پر تین تجاویز پیش کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے ’روسی قیادت کو اپنے زیادہ سرگرم فوجی رویے میں شامل اخراجات اور خطرات کا فوری طور پر از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور مغربی سفارت کو چاہیے کہ وہ روس کو اس کے لیے راضی کریں۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’اس میں شامل تمام پارٹیوں کو فوجی اور سیاسی تحمل سے کام لینا چاہیے‘ اور یہ کہ ’تمام پارٹیوں کو فوجوں کے درمیان بات چیت اور شفافیت کو بہتر بنانا چاہیے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…