پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

دماغ ذائقے کو کیسے پہچانتا ہے، سائنسدانوں نے راز پا لیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دماغ میں ذائقے کے پانچ درجوں، نمکین، تلخ، ترش، شیریں اور خوشگوار ذائقہ کو پہچاننے والے مخصوص نیورون کا پتہ چلا لیا ہے۔سائنس کے معروف جریدے ’نیچر‘ میں یہ تحقیق شائع ہوئی ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے برسوں سے چلی آنے والی بحث ختم ہو جائے گی کہ آخر دماغ ذائقے کو کیسے پہچانتا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی ٹیم نے زبان پر عیلحدہ علیحدہ ذائقوں کی پہچان کرنے والے سنسروں کو دکھایا اور پھر دماغ میں بھی اسی طرح کے سنسروں کی نشاندہی کی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے وہ بوڑھوں میں ذائقے کی پہچان کھو جانے کو واپس لا سکیں گے۔’یہ بس ایک فرضی بات ہے کہ زبان کی نوک پر ہی میٹھا ذائقہ معلوم ہوتا ہے۔‘سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زبان پر ذائقے کی پہچان کرنے والی تقریباً 8000 Taste Budsہیں جو ہر طرح کے ذائقے کی پہچان کے قابل ہیں۔مختلف قسم کے ذائقے کی پہچان کے لیے زبان پر آٹھ ہزار Taste Budsہوتے ہیں۔لیکن زبان پر موجود ذائقے کو پہچاننے والے Taste Buds میں موجود مخوص خلیے پانچ نمکین، تلخ، ترش، شیریں اور یومامی ذائقوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔جب انھیں کسی ذائقے کا پتہ چلتا ہے تو وہ دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں تاہم دماغ ان کو کس طرح لیتا ہے اس پر ابھی بحث کی گنجائش ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی ٹیم نے چوہوں پر یہ تجربہ کیا کہ جب وہ کسی ذائقے سے ہم آہنگ ہوں تو جو نیورون اس سے حرکت میں آتے ہیں وہ روشن ہو جائیں۔ پھر انھوں نے دماغ کے اندر اپنے انڈوسکوپ کے ذریعے ان کو دیکھنے کی کوشش کی۔چوہے کو پانچ ذائقے والی چیزیں کھلائی گئیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ ان سے چوہے کے دماغ کا کون سا حصہ روشن ہوتا ہے یا حرکت میں آتا ہے۔انھوں نے دماغ اور زبان کے درمیان براہ راست رابط پایا۔کہا جاتا ہے کہ شیر کی قبیل نے گوشت کھاتے کھاتے اپنے شیرینی کے ذائقے کو کھو دیا۔تحقیقی ٹیم کے پروفیسر چارلس زوکر نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ خلیے مختلف ذائقوں سے خوبصورتی کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آپ ذائقے کے مطابق دماغ میں اس کی نمائندگی کرنے والے حصے کو پاتے ہیں۔‘پروفیسر زوکر نے کہا: ’بڑھاپے میں لوگوں کھانے سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے اور آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ کس قدر صدمے کی بات ہے۔’ہمارا خیال ہے کہ یہ زبان پر موجود ذائقے کی پہچان کرنے والی کلیوں کی وجہ سے ہے۔ ہر پندرہ دن میں زبان پر ذائقے کے نئے خلیے آ جاتے ہیں لیکن یہ سلسلہ بڑھاپے میں کمزور ہو جاتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق سے اس مسئلے سے نجات حاصل ہو سکتی ہے اور ذائقے کو بڑھایا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…