پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

دماغ ذائقے کو کیسے پہچانتا ہے، سائنسدانوں نے راز پا لیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دماغ میں ذائقے کے پانچ درجوں، نمکین، تلخ، ترش، شیریں اور خوشگوار ذائقہ کو پہچاننے والے مخصوص نیورون کا پتہ چلا لیا ہے۔سائنس کے معروف جریدے ’نیچر‘ میں یہ تحقیق شائع ہوئی ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے برسوں سے چلی آنے والی بحث ختم ہو جائے گی کہ آخر دماغ ذائقے کو کیسے پہچانتا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی ٹیم نے زبان پر عیلحدہ علیحدہ ذائقوں کی پہچان کرنے والے سنسروں کو دکھایا اور پھر دماغ میں بھی اسی طرح کے سنسروں کی نشاندہی کی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے وہ بوڑھوں میں ذائقے کی پہچان کھو جانے کو واپس لا سکیں گے۔’یہ بس ایک فرضی بات ہے کہ زبان کی نوک پر ہی میٹھا ذائقہ معلوم ہوتا ہے۔‘سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زبان پر ذائقے کی پہچان کرنے والی تقریباً 8000 Taste Budsہیں جو ہر طرح کے ذائقے کی پہچان کے قابل ہیں۔مختلف قسم کے ذائقے کی پہچان کے لیے زبان پر آٹھ ہزار Taste Budsہوتے ہیں۔لیکن زبان پر موجود ذائقے کو پہچاننے والے Taste Buds میں موجود مخوص خلیے پانچ نمکین، تلخ، ترش، شیریں اور یومامی ذائقوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔جب انھیں کسی ذائقے کا پتہ چلتا ہے تو وہ دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں تاہم دماغ ان کو کس طرح لیتا ہے اس پر ابھی بحث کی گنجائش ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی ٹیم نے چوہوں پر یہ تجربہ کیا کہ جب وہ کسی ذائقے سے ہم آہنگ ہوں تو جو نیورون اس سے حرکت میں آتے ہیں وہ روشن ہو جائیں۔ پھر انھوں نے دماغ کے اندر اپنے انڈوسکوپ کے ذریعے ان کو دیکھنے کی کوشش کی۔چوہے کو پانچ ذائقے والی چیزیں کھلائی گئیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ ان سے چوہے کے دماغ کا کون سا حصہ روشن ہوتا ہے یا حرکت میں آتا ہے۔انھوں نے دماغ اور زبان کے درمیان براہ راست رابط پایا۔کہا جاتا ہے کہ شیر کی قبیل نے گوشت کھاتے کھاتے اپنے شیرینی کے ذائقے کو کھو دیا۔تحقیقی ٹیم کے پروفیسر چارلس زوکر نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ خلیے مختلف ذائقوں سے خوبصورتی کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آپ ذائقے کے مطابق دماغ میں اس کی نمائندگی کرنے والے حصے کو پاتے ہیں۔‘پروفیسر زوکر نے کہا: ’بڑھاپے میں لوگوں کھانے سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے اور آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ کس قدر صدمے کی بات ہے۔’ہمارا خیال ہے کہ یہ زبان پر موجود ذائقے کی پہچان کرنے والی کلیوں کی وجہ سے ہے۔ ہر پندرہ دن میں زبان پر ذائقے کے نئے خلیے آ جاتے ہیں لیکن یہ سلسلہ بڑھاپے میں کمزور ہو جاتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق سے اس مسئلے سے نجات حاصل ہو سکتی ہے اور ذائقے کو بڑھایا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…