ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

دودھ کا استعمال موت کا سبب بن سکتا ہے ۔ کبھی سنا آپ نے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

سٹاک ہوم۔۔۔۔۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی کے محققین بیس سالوں سے 61 ہزار خواتین کا مشاہدہ کر رہے تھے اور سات سال تک انہوں نے 45 ہزار مردوں پر ریسرچ کی۔ اس دوران یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان کی دودھ کی کھپت موت کی بڑھی ہوئی شرح اور ہڈیوں کے اکثر و بیشتر ٹوٹنے کے واقعات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟۔ اپنے ان مشاہدات کو محققین نے دستاویزی شکل میں محفوظ کر لیا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ ایسے مردوں کی اموات کی شرح کافی زیادہ تھی جو روزانہ تین گلاس یا اس سے بھی زیادہ دودھ کا استعمال کیا کرتے تھے۔ دوسری جانب دودھ کا زیادہ استعمال کرنے والی خواتین میں ہڈیوں کے ٹوٹنے کی شرح کافی زیادہ پائی گئی اور اس بیماری کا شکار مرد نظر نہیں آئے۔ دودھ کی صنعت کی ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سویڈن کے محققین کی اس تحقیق کے نتائج کو اس طرح منظر عام پر لانے کے عمل پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مطالعاتی جائزے غلط تاثر دیتے ہیں۔ ادھر اس جائزے کی رپورٹ کے ایک شریک مصنف بھی اس بارے میں کہتے ہیں کہ ہم حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ دودھ کے زیادہ استعمال کا اموات کی بڑھی ہوئی شرح اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کی بیماری سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ دودھ اس معمے کا محض ایک حصہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…