پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ترک کمپنی نے القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کو اپنی اشتہاری مہم کا حصہ بناڈالا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

انقرہ۔۔۔۔ترکی میں کاسمیٹکس اور دیگر زیبائشی مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی نے نائن الیون واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں قید القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کو اپنی اشتہاری مہم کا حصہ بناڈالا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کاسمیٹکس اور دیگر زیبائشی مصنوعات بنانے والے ایک ترک ادارے ’’ایپیلا کاسمیٹکس کمپنی ‘‘نے غیر ضروری بالوں سے نجات کے لئے تیار کی گئی اپنی مصنوعہ کے اشتہار میں 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینیٹر اور پینٹاگون پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ کہے جانے والے القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد کی اس وقت کی تصویر استعمال کی ہے جو 2003 میں ان کی پاکستان سے گرفتاری کے موقع پر لی گئی تھی۔ تصویر میں خالد شیخ محمد کو ایک بنیان میں دکھایا گیا ہے اور اس میں ان کے جسم کے بال نمایاں ہیں۔ کمپنی نے اس تصویر کے ساتھ جو عبارت چسپاں کی ہے وہ ’’یہ بال خود بخود نہیں جھڑیں گے‘‘ ہے۔اشتہاری مہم میں خالد شیخ محمد کی تصویر شامل کئے جانے کے حوالے سے کمپنی کے ترجمان مہمت کان یلدیز نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ ان کے ادارے نے اس تصویر کا انتخاب شدت پسندی میں ملوث ہونے پر نہیں بلکہ جسم پر بہت زیادہ بال ہونے کے باعث کیا، اشتہاری مہم کا حصہ بنائے جانے سے قبل کمپنی کو خالد شیخ محمد کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، کمپنی کی تشہیری مہم چلانے والوں نے یہ تصویر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ سے لی تھی جہاں اس تصویر کے ساتھ ہی دیگر کئی دلچسپ عبارات بھی تحریر تھیں، اسی وجہ سے کمپنی نے سوچا کہ ان کی مصنوعہ کی تشہیر کے لئے اس سے بہتر تصویر کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ شیخ خالد محمد کیوبا کے قریب گوانتاناموبے میں امریکا کے بدنام زمانہ قید خانے میں گزشتہ کئی برسوں سے قید ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…