اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ کا 20 صوبوں کے لیے محرم الحرام کے بعد تحریک شروع کرنے کا اعلان

datetime 26  اکتوبر‬‮  2014 |

 

کراچی۔۔۔ایم کیو ایم کے اراکین رابطہ کمیٹی اور رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مہاجر صرف متروکہ سندھ کے نہیں بلکہ پاکستان کے بھی مالک ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کی تحریک جاری رہے گی۔شارع قائدین پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ خورشید شاہ یہ جان لیں کہ مہاجروں اور پناہ گزینوں میں بہت فرق ہوتا ہے، جب مہاجر چلنا شرع ہوتا ہے تو تحریر شروع ہوتی ہے اور جب وہ پہنچتا ہے تو تبدیلی آتی ہے، ہم صرف متروکہ سندھ کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی مالک ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ 20 صوبوں کے لیے محرم الحرام کے بعد تحریک شروع کریں گے جب کہ کہا جارہا ہے کہ ہم ایک انتہا پسند جماعت بنتے جارہے ہیں لیکن جب بات ناموس رسالت پرجائے تو ہم وہاں ہم کسی کو نہیں دیکھتے، اس موقع پر انہوں نے ’’یوم سیاہ‘‘ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج کراچی اور سندھ سمیت پورے پاکستان کے وسائل پر وڈیروں کا قبضہ ہے اور اس قبضے کو قائم رکھنے کے لئے اس طرح کی سیاست کی جارہی ہے کہ لفظ ’’مہاجر‘‘ کو بھی اپنے تعصب کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، آج کراچی اور شہری سندھ میں ہی نہیں بلکہ اندرون سندھ میں بھی عوام نے ایم کیو ایم کے یوم سیاہ کو کامیاب بنایا ہے اور کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایک اور بحث چھڑ گئی ہے کہ سندھ کو تقسیم کیا جارہا ہے لیکن ہم صوبے کی نہیں بلکہ انتظامی امور کی تقسیم چاہتے ہیں اور وسائل اور اختیارات کی تقسیم کو منصفانہ بنانا چاہتے ہیں اور یہ تحریک پاکستان کے وڈیروں اور موروثی سیاست کے خلاف تحریک ہے۔رابطہ کمیٹی کے رکن حیدر عباس رضوی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں 2 اسلامی ریاستیں ایسی ہیں جو ہجرت کے نتیجے میں قائم ہوئیں، پہلی وہ جو حضورﷺ کی ہجرت کے نتیجے میں قائم ہوئی اور وہ ہجرت کرکے مہاجر ہوگئے جبکہ دوسری ریاست پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر بنی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…