اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے اپنی زندگی کے مشکل دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شہرت حاصل کرنے سے پہلے وہ معمولی معاوضے پر سالگرہ اور شادی کی تقریبات میں گانا گایا کرتے تھے تاکہ روزگار کما سکیں۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دلجیت نے کہا کہ اپنے کیریئر کے آغاز میں وہ کسی بھی تقریب میں پرفارم کرنے سے انکار نہیں کرتے تھے۔ ان کے مطابق جو بھی معاوضہ پیش کیا جاتا، وہ اسے قبول کرکے محنت سے اپنی ذمہ داری نبھاتے تھے۔
42 سالہ گلوکار نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں مالی وسائل انتہائی محدود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے علاج کروانے کے لیے بھی رقم دستیاب نہیں ہوتی تھی، یہی حالات انہیں مسلسل آگے بڑھنے اور سخت محنت کرنے پر آمادہ کرتے رہے۔
دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ وہ بچپن ہی سے کامیاب اور خوشحال زندگی کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کا پہلا میوزک البم “عشق دا اڈا اڈا” 2002 میں ریلیز ہوا، جس کے بعد انہیں مختلف تقریبات میں پرفارم کرنے کی پیشکشیں ملنا شروع ہو گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب پہلی بار کسی تقریب کے بدلے معاوضہ ملا تو انہیں احساس ہوا کہ یہی ان کے لیے بہتر پیشہ بن سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر کسی نے 5 ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار روپے کی بھی پیشکش کی تو وہ فوراً رضامند ہو جاتے تھے اور دن رات مختلف شہروں میں پرفارمنس دیتے رہے۔
دلجیت نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ لائیو پرفارمنسز ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئیں، کیونکہ اس شعبے میں بہتر مالی مواقع موجود تھے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجابی موسیقی کی صنعت کے بعض سینئر فنکار شادیوں میں گانے کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اسی راستے نے انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔



















































