ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

فاطمہ جتوئی کی خودکشی کی کوشش، وجہ سامنے آ گئی

datetime 19  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک)مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی نے حالیہ دنوں ایک دل دہلا دینے والے واقعے پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک جعلی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور یہاں تک کہ خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات بھی ان کے ذہن میں آنے لگے۔فاطمہ جتوئی کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیک ویڈیو کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک لائیو پر اس کا چرچا شروع ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے پر ان کی زندگی یکسر بدل گئی اور وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے انہیں اس حد تک توڑ دیا کہ وہ خود کو سنبھالنے سے قاصر ہو گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کے ذہن میں انتہائی منفی خیالات آنے لگے اور وہ اپنی زندگی ختم کرنے جیسے خیالات سے بھی دوچار ہوئیں۔ فاطمہ کے مطابق مشکل گھڑی میں ان کے والدین نے ان کا ساتھ دیا، انہیں سہارا دیا اور کسی بڑے نقصان سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وقت انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کے ذریعے دل کو سکون دینے کی کوشش کی اور بعد ازاں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے احساسات عوام کے سامنے رکھے۔فاطمہ جتوئی نے دعویٰ کیا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، اور فیک ویڈیو کے پیچھے کچھ مخصوص افراد ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں سے کچھ لوگ مسلسل انہیں ہراساں کر رہے ہیں، ان کے خاندان کو بھی نشانہ بنایا گیا اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دباؤ اور مشکلات کے باوجود وہ ٹک ٹاک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں، کیونکہ ان کے بقول یہی وہ لوگ چاہتے تھے کہ وہ ہار مان کر سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو جائیں۔اپنی گفتگو کے اختتام پر فاطمہ جتوئی نے کہا کہ اگرچہ ایک لمحے کے لیے انہوں نے انتہائی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچا، مگر پھر انہیں یہ احساس ہوا کہ اسلام میں خودکشی کی اجازت نہیں۔ انہوں نے اپنے والدین کے جذبات اور محبت کو سامنے رکھتے ہوئے خود کو سنبھالا اور کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے مخالفین انہیں اس حد تک کمزور دیکھنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…