پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

فاطمہ جتوئی کی خودکشی کی کوشش، وجہ سامنے آ گئی

datetime 19  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آبا د (نیوز ڈ یسک)مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی نے حالیہ دنوں ایک دل دہلا دینے والے واقعے پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک جعلی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں اور یہاں تک کہ خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات بھی ان کے ذہن میں آنے لگے۔فاطمہ جتوئی کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیک ویڈیو کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک لائیو پر اس کا چرچا شروع ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے پر ان کی زندگی یکسر بدل گئی اور وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے انہیں اس حد تک توڑ دیا کہ وہ خود کو سنبھالنے سے قاصر ہو گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کے ذہن میں انتہائی منفی خیالات آنے لگے اور وہ اپنی زندگی ختم کرنے جیسے خیالات سے بھی دوچار ہوئیں۔ فاطمہ کے مطابق مشکل گھڑی میں ان کے والدین نے ان کا ساتھ دیا، انہیں سہارا دیا اور کسی بڑے نقصان سے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وقت انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت کے ذریعے دل کو سکون دینے کی کوشش کی اور بعد ازاں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے احساسات عوام کے سامنے رکھے۔فاطمہ جتوئی نے دعویٰ کیا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، اور فیک ویڈیو کے پیچھے کچھ مخصوص افراد ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں سے کچھ لوگ مسلسل انہیں ہراساں کر رہے ہیں، ان کے خاندان کو بھی نشانہ بنایا گیا اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دباؤ اور مشکلات کے باوجود وہ ٹک ٹاک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں، کیونکہ ان کے بقول یہی وہ لوگ چاہتے تھے کہ وہ ہار مان کر سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو جائیں۔اپنی گفتگو کے اختتام پر فاطمہ جتوئی نے کہا کہ اگرچہ ایک لمحے کے لیے انہوں نے انتہائی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچا، مگر پھر انہیں یہ احساس ہوا کہ اسلام میں خودکشی کی اجازت نہیں۔ انہوں نے اپنے والدین کے جذبات اور محبت کو سامنے رکھتے ہوئے خود کو سنبھالا اور کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے مخالفین انہیں اس حد تک کمزور دیکھنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…