حریم شاہ نے مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مار دیا

  پیر‬‮ 18 جنوری‬‮ 2021  |  19:53

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مفتی عبدالقوی اکثر سکینڈل کی زد میں آتے رہتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون نے مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مار دیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یہ ویڈیو عدیل راجہ نامی صارف نے شیئر کی ہے، جس کی شہ سرخی انہوں نے دی ہے کہ مفتی قوی ایک خاتون سے تھپڑکھاتے ہوئے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی کسی ہوٹل کے ایک کمرے میں ہیں اور اپنا موبائل استعمال کر رہے ہیں، ایسے میں سرخ کپڑوں میں ملبوس ایک خاتون آتی


ہے اور مفتی عبدالقوی کو اچانک تھپڑ مار کر پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اچانک تھپڑ کھانے پر مفتی عبدالقوی حیرت زدہ اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کا قد اورجسامت بالکل حریم شاہ جیسی ہے لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ خاتون حریم شاہ ہی ہیں یا پھر کوئی اور۔ تھپڑ مارنے کا انداز کچھ ایسا ہے کہ جیسے ایسا عمل کرنے سے شہرت حاصل ہو گی۔ باقاعدہ یہ تھپڑ ایک منصوبہ بندی کے تحت لگتا ہے کہ مفتی عبدالقوی کو مارا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل معروف صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حریم شاہ اور مفتی عبدالقوی کے درمیان ہونے والی ویڈیو کال لیک کر دی تھی۔ اس میں مفتی عبدالقوی خان حریم شاہ کو کہہ رہے تھے کہ میں آپ کے سر پر قربان جاؤں شہزادی، جس کے جواب میں حریم شاہ نے کہا تھاکہ مجھ پر ٹھرک نہ جھاڑیں۔ اس عمر میں آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ اپنی بیٹیوں کی عمر پر ٹھرک جھاڑیں۔ مفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے کہا تھا کہ آپ نے اسلام کا نام بدنام کیا ہوا ہے۔ حریم شاہ نے مفتی عبدالقوی کو شیطان قرار دیا تھا۔ آپ نے پورے ملکمیں اسلام کا نام بدنام کرکے رکھا ہوا ہے۔ آپ کو شرم نہیں آتی۔ حریم شاہ نے مفتی عبدالقوی کو انتہائی نازیبا الفاظ کہے تھے جو تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔اس سے قبل مفتی عبدالقوی کی ایک خاتون کے ساتھ رقص کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل نے حریم شاہ کے آفیشل اکاؤنٹ سے تھپڑ مارنے کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تھپڑ مارنے والی حریم شاہ ہی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎