منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کرکٹ کا شوق تھا گھر میں موسیقی کے رحجان سے گلوکار بن گیا : عاطف اسلم

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) گلوکار عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے کرکٹر بننا چاہتے تھے جبکہ موسیقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کرکٹ میں دلچسپی ہونے کے باعث انہیں بچپن ہی سے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا جبکہ گھر میں بھی موسیقی کا رحجان نہیں تھا لیکن پھر ایک روز عاطف کے بڑے بھائی گھر میں ٹیپ ریکارڈر لے آئے جس کے بعد ان کا رجحان موسیقی کی جانب ہوا۔

عاطف نے بتایا کہ ابتدا میں وہ مہدی حسن، نور جہاں سمیت دیگر نامور گلوکاروں کے گانے سن لیا کرتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے پنجابی گانے بھی سنا شروع کیے۔ان کا کہنا تھا کہ موسیقی وہ والدین کی غیر موجودگی میں سنا کرتے تھے کیونکہ والدین ان کی پڑھائی لے کر خاصے حساس تھے اور یہی وجہ تھا کہ جب کرکٹ کا کھیل ان کی پڑھائی پر اثر انداز ہونے لگا تو والدین نے آگے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد عاطف نے پھر ان کا انجنئیر بنے کا ارادہ تھا۔عاطف نے بتایا کہ پہلی مرتبہ انہوں نے راولپنڈی میں آکر گانے گانے کا آغاز کیا اور اس کے بعد ان کا زیادہ رجحان مو سیقی کی جانب ہوا۔ پر زیادہ رحجان ہوا جبکہ کالج کے زمانے میں ان کے کام کو سراہا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کالج کے زمانے میں وہ زیادہ لڑکیوں کی صحبت میں رہتے تھے اور انہیں پیار کے حوالے سے تجاویز بھی دیتے تھے۔عاطف نے بتایا کہ ایک مقابلے میں ان کے گانے ’سر کی ہے‘ نے خوب داد وصول کی۔ اس کے بعد ان کو موسیقی سے لطف ملا اور دوست کو دیکھ کر گیٹار بجانا بھی سیکھ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے سینیرز کے ساتھ مل کے جل بینڈ بنایا اور پہلی بار مکڈونلڈ میں کام کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ الحمرہ انڈس میوزک کے ایورڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ ثمینہ پیرزادہ سے ملے اور ان کو اپنی موسیقی کی سی ڈی دی۔ تب ہی ثمینہ پیرزادہ نے کہا تھا کہ یہ لڑکا ستارہ بنے گا۔عاطف اسلم نے بتایا کہ ثمینہ پیرزادہ نے پہلی مرتبہ ہوائی جہاز میں انہیں بتایا کہ ان کی آواز منفرد ہے۔اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ وہ چار بھائی ہیں جبکہ ان کی کوئی بہن نہیں اسی لیے زندگی میں بہن کی کمی بہت محسوس کی۔ وہ اپنے بھائیں میں سب سے چھوٹے تھے۔ وہ اپنے بڑے دو بھائیوں سے زیادہ قریب نہیں تاہم  تیسرے سے بہت قریب ہیں۔عاطف اسلم کے

دادا کا خاندان وزیرآباد میں ہے اور وہ وزیر آباد میں ہی پیدا ہوئے تاہم پھر والد کی نوکری کی وجہ سے لاہور ماڈل ٹاؤن میں آئے۔انہوں نے بتایا کہ ان کو بچپن میں روز ایک کھلونا ملتا اور اب ان کا بیٹا بھی وہی کھلونے خریدتے جو وہ اپنے بچپن میں لیتے رہے۔ان کا کہنا تھا ان کی پہلی محبت کا اثر ان پر آج تک ہے پر وہ اسے محبت کا نام نہیں دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ جل کا نام انہوں نے اپنی پسندیدہ چیزوں سے رکھا ایک دوست جسے وہ بلو کے نام سے مخاطب کرتے تھے دوسرا پانی اور ان کا پسندیدہ رنگ نیلا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…