اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کراچی: سندھ حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت میں 500 روپے فی من کمی کرتے ہوئے اسے 4 ہزار 500 روپے مقرر کردیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد آٹے کی فی کلو قیمت میں بھی 17 روپے تک کمی متوقع ہے۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ صوبے میں گندم کی قیمت پہلے 5 ہزار روپے فی من مقرر تھی، تاہم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اسے کم کرکے 4 ہزار 500 روپے کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے اثرات آٹے کی قیمت پر بھی مرتب ہوں گے اور صارفین کو فی کلو 17 روپے تک سستا آٹا ملنے کی توقع ہے۔دوسری جانب شرجیل میمن نے صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو عوامی اجتماع منعقد کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے حوالے سے واضح کیا کہ شارع فیصل پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کسی قسم کے دباؤ یا بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گی اور سیاسی معاملات پر اپنا مؤقف برقرار رکھے گی۔شرجیل میمن نے 12 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو ماضی جیسے واقعات دوبارہ پیش آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت کم کرنے کے فیصلے کو عوام کے لیے ممکنہ ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کمی کا حقیقی فائدہ صارفین تک پہنچنا اہم ہوگا۔ دوسری طرف سیاسی جلسوں کے انعقاد کے لیے حکومتی اجازت سے متعلق شرجیل میمن کے بیان کے بعد صوبے میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔



















































