کراچی(این این آئی) ملک میں تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں ایک بار پھر ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے آگے نکل گیا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے 3 ماہ کے دوران 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مجموعی ٹیکس وصولی سے 90 ارب روپے زیادہ ہے۔ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے انکم ٹیکس وصولی میں 38 فیصد کمی ہوئی اور یہ 35.2 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس شعبے سے 22 ارب روپے کم ٹیکس وصول ہوا۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی۔ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی۔ذرائع کے مطابق جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس وصولی 42 فیصد کمی سے 23 ارب روپے ہوگئی، جبکہ جائیداد کی خریداری پر انکم ٹیکس وصولی 31 فیصد کمی سے 12.2 ارب روپے رہی۔
ذرائع کے مطابق ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے 3 ماہ میں مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ ہول سیلرز کی ٹیکس ادائیگی 10 فیصد کمی سے 6.2 ارب روپے رہی، جبکہ ریٹیلرز نے 11.3 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد زیادہ ہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام سے قبل سالانہ ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقے کا حصہ 391 ارب روپے تھا، جو 2 سالہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد بڑھ کر 629 ارب روپے ہوگیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے 52 ارب روپے کے ریلیف کا دعویٰ کیا گیا جبکہ اس طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد تک کمی کی گئی۔



















































