اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے غیر مجاز طور پر رقم منتقل ہونے کے معاملے میں صارف عدالت نے شہری کے حق میں یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے ڈیجیٹل بینک کو رقم واپس کرنے اور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
صارف عدالت کے جج نصر اللہ گنڈاپور نے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو ہدایت کی کہ مدعی کے اکاؤنٹ سے منتقل کیے گئے 40 ہزار روپے فوری طور پر واپس کیے جائیں۔عدالت نے صارف کو ذہنی اذیت، پریشانی اور قانونی کارروائی پر آنے والے اخراجات کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ بینک کی غفلت پر حکومت کو مزید 25 ہزار روپے جرمانے کی مد میں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق دسویں جماعت کے طالب علم فہد الرحمان نے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 14 فروری کو گھریلو ضرورت کے لیے اپنے اکاؤنٹ سے 50 ہزار روپے نکلوانے گیا، تاہم اکاؤنٹ میں صرف 11 ہزار روپے موجود تھے۔فہد الرحمان کے مطابق اکاؤنٹ کی تفصیلات چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے تین مختلف ٹرانزیکشنز کے ذریعے رقم منتقل کی گئی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نہ تو اس نے یہ لین دین کیے اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کو اپنے اکاؤنٹ سے رقم منتقل کرنے کی اجازت دی۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس کا اکاؤنٹ ہیک بھی نہیں ہوا تھا جبکہ مذکورہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے ایزی پیسہ کی جانب سے اسے کوئی اطلاع یا نوٹیفکیشن بھی موصول نہیں ہوا۔ اس نے مسئلے کے حل کے لیے ایزی پیسہ ہیلپ لائن سے رابطہ کیا، تاہم وہاں سے بھی اسے خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی گئی۔کیس کی سماعت کے دوران ایزی پیسہ بینک کی جانب سے کوئی نمائندہ عدالت میں پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ مدعی نے اپنے مؤقف کی حمایت میں ٹرانزیکشن رسیدیں، ای میلز، قانونی نوٹس اور دیگر دستاویزی شواہد بھی عدالت میں پیش کیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک صارف کے فنڈز اور اپنے الیکٹرانک پیمنٹ سسٹم کی مناسب حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہا، جس کے باعث صارف کو مالی نقصان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



















































