منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

datetime 14  ستمبر‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کے ذاتی ڈیٹا اور رازداری کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات سامنے آگئے،

مختلف ایپس اور عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سے صارفین کی آن لائن اور بعض آف لائن سرگرمیوں سے بڑے پیمانے پر معلومات جمع کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایک حالیہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور گوگل سمیت بڑے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے موبائل فون اور آن لائن سرگرمیوں سے مختلف نوعیت کا ڈیٹا حاصل کرتے ہیں، جس میں براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن، رابطہ نمبرز، فائلیں، ڈیوائس سے متعلق معلومات اور دیگر ذاتی تفصیلات شامل ہوسکتی ہیں۔بیان کے مطابق صارفین کو مختلف ایپلی کیشنز استعمال کرتے وقت بار بار ”قبول” یا ”اجازت” دینے کا اختیار دیا جاتا ہے، تاہم عام طور پر صارف ان اجازتوں کی مکمل نوعیت اور ان کے ممکنہ دائرہ کار سے آگاہ نہیں ہوتے۔

ایک مرتبہ اجازت دیے جانے کے بعد متعلقہ ایپ کو لوکیشن، رابطہ نمبرز، تصاویر اور دیگر میڈیا فائلوں، مائیکروفون یا بعض دیگر معلومات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق جدید ایپلی کیشنز میں صارفین کی سرگرمیوں اور ترجیحات سے متعلق معلومات جمع کرنے کے مختلف طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان معلومات میں صارف کے زیر استعمال ڈیوائس، ایپلی کیشن کے استعمال کا انداز، لوکیشن سگنلز اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات شامل ہوسکتی ہیں، جنہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔حالیہ دعوے میں فیس بک اور انسٹاگرام سے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم صرف صارف کی آن لائن سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ڈیوائس سے متعلق معلومات، ایپلی کیشن کے استعمال کے انداز اور لوکیشن سے متعلق اعداد و شمار بھی مختلف ذرائع سے حاصل کرسکتے ہیں۔اسی طرح گوگل کی مختلف خدمات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صارفین کی تلاش کی سرگرمیوں اور طویل مدتی لوکیشن ہسٹری سے متعلق معلومات محفوظ کی جاسکتی ہیں، جو بعض صورتوں میں کئی سال تک پر محیط ہوسکتی ہیں۔بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ایپلی کیشنز کے اربوں مرتبہ ڈاؤن لوڈ ہونے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد اس سے کم ہونے کی صورت میں ایک ہی صارف کی جانب سے متعدد ڈیوائسز پر ایک ہی اکاؤنٹ یا ایپلی کیشن استعمال کرنے سے پیدا ہونے والا ڈیٹا کس حد تک پھیل سکتا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صارفین کو کسی بھی ایپلی کیشن کو اجازت دیتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس قسم کی معلومات تک رسائی مانگ رہی ہے اور آیا اس اجازت کا متعلقہ ایپ کے بنیادی کام سے واقعی تعلق ہے یا نہیں۔ غیر ضروری اجازتوں کو بند رکھنا اور رازداری سے متعلق ترتیبات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا کے وسیع پیمانے پر جمع کیے جانے کے ان دعوؤں نے ایک مرتبہ پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ صارفین کی ذاتی معلومات کس حد تک محفوظ ہیں، انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور عام صارف کو اپنے ڈیٹا پر کتنا اختیار حاصل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…