پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان میں دہشت گردی،ایل پی جی کی قلت اور قیمت میں اضافے کا خدشہ

datetime 18  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)بلوچستان میں سکیورٹی کے مخدوش حالات کے باعث آئندہ دنوں میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہونے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

اوگرا سے حاصل دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملے بالخصوص ایل پی جی ٹینکروں کو نذر آتش کرنے کے واقعات نے غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ایل پی جی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور قیمت بھی بڑھ سکتی ہے۔اوگرا دستاویزات کے مطابق بلوچستان بالخصوص کوئٹہ نوشکی، دالبندین تفتان روٹ پر سکیورٹی انتظامات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایل پی جی کی نقل و حمل سرحدی علاقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے کیوں کہ بھاری مالی نقصان کے باعث ایل پی جی کے مرکزی درآمدکنندگان کام جاری رکھنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔اوگرا نے متنبہ کیا کہ فوری اور موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان میں ایل پی جی کی فراہمی مستقبل قریب میں بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ مائع پٹرولیم گیس پاکستان میں اکثریتی آبادی کے لیے کھانے پکانے کے مرکزی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، صرف 28 تا 30 فیصد آبادی کو ہی قدرتی گیس کی سہولت میسر ہے جبکہ باقی آبادی ایندھن کے متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستان کی ایل پی جی مارکیٹ کا انحصار درآمد پر ہے، سالانہ مقامی طلب لگ بھگ 2 ملین ٹن ہے جس میں سے 70 فیصد گیس درآمد کی جاتی ہے جبکہ مقامی پیداوار ملکی ضروریات کا 30 فیصد فراہم کرتی ہے۔پاکستان میں 75 فیصد ایل پی جی بلوچستان میں پاک ایران سرحدی راستے کے ذریعے درآمد ہوتی ہے اور اس راستے پر رکاوٹوں سے براہ راست قومی سطح پر دستیابی متاثر ہوتی ہے، لاگت بڑھ جاتی ہے اور قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اوگرا نے ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے سٹریٹجک سپلائی روٹ پر حملے کرنے والوں کے خلاف مثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ مارکیٹ مستحکم رہ سکے۔

خیال رہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں پہلے ہی اس مہینے ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے، سرکاری سطح پر نرخ 12.89 روپے فی کلو گرام بڑھنے کے بعد 254.32 روپے فی کلو ہو چکے ہیں جبکہ کئی مقامات پر صارفین کہیں زیادہ قیمت پر ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔اس سے پہلے کسٹمز حکام نے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا تھا کہ 30 سے 40 پٹرولیم و ایل پی جی ٹینکروں پر بلوچستان میں حملے ہوئے ہیں جس سے تقریبا دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔کسٹمز حکام نے بتایا کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل سکیورٹی قافلوں کی نگرانی میں ہوتی ہے جس سے صورت حال بہتر ہوئی ہے تاہم سکیورٹی انتظامات کے باوجود حملے جاری ہیں جس کے لیے مثر و دیرپا حفاظتی حل کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…