منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پٹرول کی قیمت 500 روپے تک جانے کا خدشہ، ماہر معاشیات نے بتا دیا

datetime 18  اگست‬‮  2026 |
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

ایسے میں یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا مستقبل میں پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے؟

ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی مختلف وجوہات پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کا براہ راست اثر پاکستانی صارفین پر پڑتا ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 14 سے 18 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملک میں مقامی توانائی کے ذرائع کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاتا اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں متبادل توانائی کو فروغ دیا جاتا تو درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جا سکتا تھا۔

ریفائنریوں میں سرمایہ کاری پر زور
ماہر معاشیات نے کہا کہ ماضی میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری نوعیت کے اقدامات پر زیادہ توجہ دی گئی۔ ان کے مطابق اگر مقامی ریفائنریوں کو جدید بنایا جاتا تو روس اور دیگر ممالک سے خام تیل درآمد کرکے اسے ملک کے اندر ریفائن کرنے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے تھے۔

انہوں نے پٹرول کی قیمتوں پر عائد ٹیکسز اور لیوی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پٹرول پر فی لیٹر مجموعی ٹیکس تقریباً 114 روپے بنتا ہے، جس میں پٹرولیم لیوی کا حصہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق حکومت کو قلیل مدتی اقدامات کے بجائے توانائی کے شعبے میں مستقل اور طویل المدتی پالیسی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور توانائی میں خود کفالت کی جانب پیش رفت نہ کی تو آنے والے برسوں میں بھی قیمتوں کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

ماہر معاشیات نے پٹرولیم لیوی اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کی تجویز بھی دی اور کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنا چاہئیں جن سے عوام پر مسلسل بڑھتے ہوئے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…