جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

واٹس ایپ پر شناختی کارڈ اور حساس دستاویزات بھیجنا خطرناک، ماہرین نے خبردار کردیا

datetime 17  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)قومی شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ، جائیداد کے کاغذات اور دیگر حساس دستاویزات واٹس ایپ کے ذریعے کسی غیر مصدقہ نمبر پر بھیجنا شہریوں کو شناخت کی چوری اور مالی فراڈ سمیت سنگین خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قرض فراہم کرنے والے ایجنٹس، پراپرٹی ڈیلرز، ہوٹل انتظامیہ یا مختلف مالیاتی و دیگر خدمات فراہم کرنے والے افراد شناخت کی تصدیق کے نام پر شہریوں سے اہم دستاویزات واٹس ایپ پر طلب کرتے ہیں، تاہم ذاتی نمبرز پر ایسی معلومات شیئر کرنے سے قبل ادارے اور وصول کنندہ کی مکمل تصدیق ضروری ہے۔ماہرین نے کہا کہ واٹس ایپ پر دستاویز بھیجے جانے کے بعد اس پر شہری کا کنٹرول محدود ہوجاتا ہے، کیونکہ فائل وصول کنندہ کے موبائل فون، کمپیوٹر یا کلاؤڈ بیک اپ میں محفوظ ہوسکتی ہے۔ بعد ازاں یہی دستاویز فارورڈ یا نقل ہونے کی صورت میں مزید افراد تک پہنچ سکتی ہے، جس سے حساس معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔شناختی کارڈ اور بینک دستاویزات میں موجود ذاتی و مالی معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچنے کی صورت میں جعلی اکاؤنٹس، مالیاتی فراڈ، غیر ضروری رابطوں اور شناخت کی چوری جیسے جرائم میں استعمال ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حتیٰ کہ دستاویز وصول کرنے والا شخص قابلِ اعتماد ہو، تب بھی اس کے فون یا آن لائن اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی صورت میں معلومات افشا ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ حساس دستاویزات واٹس ایپ پر بھیجنے کے بجائے متعلقہ ادارے کے سرکاری اور محفوظ آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جائیں۔ کسی بھی ادارے کی جانب سے دستاویز طلب کیے جانے پر پہلے اس کا باضابطہ لنک یا محفوظ اپ لوڈ نظام حاصل کیا جائے۔اگر کسی صورت واٹس ایپ کے ذریعے دستاویز بھیجنا ناگزیر ہو تو فائل کو پاس ورڈ سے محفوظ کرنے اور پاس ورڈ الگ ذریعے سے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شہریوں کو یہ بھی چاہیے کہ غیر ضروری طور پر مکمل شناختی کارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر حساس معلومات شیئر نہ کریں اور دستاویز فراہم کرنے کی ضرورت اور مقصد کی پہلے تصدیق کریں۔ماہرین نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات ایک قیمتی اثاثہ ہیں، اس لیے شہریوں کو اپنی دستاویزات کے استعمال، ذخیرہ کرنے اور شیئر کرنے کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔ ایک بار حساس دستاویز کسی دوسرے شخص کے ذاتی فون یا کمپیوٹر تک پہنچ جائے تو اس کی تمام نقول اور ممکنہ بیک اپ پر نظر رکھنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…