پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

اسکول نہ جانے والے بچوں کے حوالے سے ایک اوراہم فیصلہ

datetime 15  اگست‬‮  2026 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی گھر گھر گنتی کا فیصلہ کرلیا گیا۔

اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے 4 محکموں کا اشتراک کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے گئے ہیں۔منصوبے کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی گھر گھر گنتی اور جامع سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی درست تعداد اور مقامات معلوم کرنے کے لیے ‘ون میپ’نظام تشکیل دیا جائے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 60 فیصد اسکول سے باہر بچوں کو فوری طور پر اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 5 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سکولوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم کے لیے سرکاری اسکولوں، ڈبل شفٹ، کمیونٹی اسکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شراکت داری سے استفادہ کیا جائے گا۔ غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکوٰ? اور دیگر سماجی معاونت فراہم کی جائے گی۔ 14 سے 16 سال کے نوجوانوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام ‘جنریشن ان لمیٹڈ’کے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی۔علاوہ ازیں منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ شفافیت کے لیے آزاد ادارہ سروے شدہ ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔ بچوں کے وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…