منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

آٹے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، سرکاری آٹا بھی مہنگا ہوگیا

datetime 4  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)راولپنڈی ڈویژن میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے نمایاں اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی مبینہ قلت کے باعث نہ صرف کھلے بازار میں آٹا مہنگا ہوا ہے بلکہ سرکاری آٹے کی قیمتوں میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 10 کلو سرکاری آٹے کا تھیلا، جو پہلے تقریباً 900 روپے میں دستیاب تھا، اب 1100 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 20 کلو سرکاری آٹے کی قیمت 1800 روپے سے بڑھ کر 2200 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

فلور ملز کے تیار کردہ آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں 15 کلو آٹے کا تھیلا، جو پہلے 1800 روپے میں فروخت ہو رہا تھا، اب اس کی قیمت بڑھ کر تقریباً 2380 روپے ہو گئی ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ 80 کلو فائن آٹے کی بوری کی قیمت 10 ہزار 400 روپے سے بڑھ کر 13 ہزار 400 روپے تک جا پہنچی ہے۔ صرف چار دن کے دوران اس کی قیمت میں 3 ہزار روپے کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح لال آٹے کی 80 کلو بوری بھی 9 ہزار روپے سے بڑھ کر 12 ہزار 200 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ گندم کی محدود دستیابی کے باعث اس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق 40 کلو گندم کی قیمت 5 ہزار 550 روپے سے بڑھ کر 6 ہزار 600 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث فلور ملز کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا اثر آٹے کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے اور بنیادی غذائی ضرورت پوری کرنا بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔

دوسری جانب نان بائی ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں روٹی اور نان کی موجودہ قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ قیمتوں کے تعین سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…