بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

datetime 29  جولائی  2026 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ایران کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی فوجی یا سیاسی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل مارکیٹ پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشے کے پیشِ نظر خام تیل کی خریداری بڑھا دیتے ہیں، جس سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر خام تیل کے نرخوں میں تیزی دیکھی گئی۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے، تاہم اس واقعے کے باوجود عالمی منڈی میں بے یقینی برقرار رہی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 3.67 فیصد اضافے کے بعد 82.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،

جبکہ برینٹ کروڈ 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 86.94 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ماہرین کے مطابق سعودی عرب، ایران، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر جیسے ممالک عالمی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جنگ کے خدشات عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلب بڑھتی ہے اور قیمتیں مزید اوپر چلی جاتی ہیں۔ماہرین نے آبنائے ہرمز کو عالمی تیل تجارت کی اہم ترین گزرگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک سے برآمد ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا بھر میں پہنچتا ہے۔ اگر اس سمندری راستے پر کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پیدا ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ جاری رہا یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو آنے والے دنوں میں خام تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو تیل مہنگا ہونے کی صورت میں زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھنے اور معیشت پر اضافی دباؤ پڑنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…