بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں 46لاکھ موٹرسائیکلوں میں سے 60فیصد موٹرسائیکلوں پر جعلی نمبرپلیٹس کا انکشاف

datetime 27  جولائی  2026 |

کراچی (این این آئی) کراچی میں ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور ای چالان نظام کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم شہر میں رجسٹرڈ لاکھوں موٹرسائیکلوں میں سے بڑی تعداد پر جعلی نمبر پلیٹس لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے بتایا کہ شہر میں اس وقت تقریباً 46 لاکھ موٹرسائیکلیں موجود ہیں، جن میں سے 60 فیصد پر جعلی نمبر پلیٹس نصب ہیں، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان سسٹم میں بعض تکنیکی مسائل موجود ہیں اور یہ نظام ابھی سو فیصد مؤثر نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کئی دہائیوں سے چلے آنے والے مسائل ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنا ممکن نہیں، تاہم مرحلہ وار بہتری لائی جا رہی ہے اور وقت کے ساتھ ٹریفک نظام کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل سواروں میں ہیلمٹ کے استعمال سے متعلق آگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ہیلمٹ حادثات کی صورت میں قیمتی جانوں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر بھر میں لین ڈسپلن پر بھی سختی سے عملدرآمد کرایا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔ڈی آئی جی ٹریفک نے کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب شہر کی سڑکوں پر 9 ہزار بسیں چلتی تھیں، مگر اب ان کی تعداد کم ہو کر صرف 2 ہزار رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس شہر میں رکشوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس سے ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں کراچی میں تقریباً 20 لاکھ موٹرسائیکلیں تھیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 46 لاکھ ہو چکی ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ پیر محمد شاہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، اصل اور قانونی نمبر پلیٹس استعمال کریں، ہیلمٹ پہنیں اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے میں ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…