اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے،
جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں وقتی استحکام کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں وقفہ دینے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں پانچ فیصد سے زیادہ گر گئیں۔رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 5.58 ڈالر کی کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) بھی 4.91 ڈالر سستا ہو کر 84.40 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی اور سفارتی پیش رفت کی امید نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو وقتی طور پر کم کیا،
جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی حملوں میں وقفہ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ 13 روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد کیا گیا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ وقفہ عارضی ہے یا اس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔



















































