کراچی(این این آئی)پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز کی نمائندہ تنظیموں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی،
جس کی تمام تر ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا پر عائد ہوگی۔کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد اللہ آفریدی، صدر سرفراز جدون، جنرل سیکریٹری شعیب خان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو گزشتہ تین برس سے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں دیا گیا، جبکہ اس دوران موٹروے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ٹول ٹیکس میں تقریباً 180 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے پر نظرثانی کی جائے، کمرشل لوڈنگ کا نظام فوری طور پر ختم کیا جائے اور ٹول ٹیکس میں اضافے کے تناسب سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اوگرا اور پیٹرولیم ڈویڑن کے ساتھ مذاکرات اور خط و کتابت جاری ہے، تاہم مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔چیئرمین عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ٹرانسپورٹرز کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں آئل ٹینکرز کی نقل و حمل بند کر دی جائے گی، جس کے اثرات ایندھن کی ترسیل اور معیشت پر مرتب ہوں گے۔جنرل سیکریٹری شعیب خان نے کہا کہ پائپ لائن کو مقررہ کوٹے سے کہیں زیادہ تیل فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث آئل ٹینکرز کئی کئی روز تک لوڈنگ کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک آئل ٹینکر پر ڈھائی سے تین کروڑ روپے تک سرمایہ کاری کی جاتی ہے،
مگر موجودہ صورتحال میں دو ماہ میں صرف ایک ہی ٹرپ مل پاتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز جدون نے کہا کہ این ایچ اے کے ٹیکسوں میں مسلسل اضافے کے باوجود کرایے تین سال پرانی سطح پر برقرار ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران محمد سلیمان ترین نے کہا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کیے بغیر پائپ لائن منصوبہ متعارف کرایا، جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے تحفظات دور کرے اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالے، بصورت دیگر 72 گھنٹوں کے بعد ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ناگزیر ہوگی۔



















































