بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی درخواست؛ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالرز کی مالی سہولت مانگ لی

datetime 22  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے، روپے کو استحکام دینے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی ضروریات، عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی اور دوطرفہ مالی تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکی حکام کے سامنے پانچ برس کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت پر مبنی ایک معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس مجوزہ فنڈ کا بنیادی مقصد ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا، روپے پر دباؤ کم کرنا اور مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار میں کمی لانا ہے۔ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ امریکی وزارتِ خزانہ کا ایک خصوصی مالیاتی نظام ہے، جس کے تحت دوست ممالک کو ڈالر، سوپ لائنز یا دیگر مالی ضمانتیں فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنی معیشت اور کرنسی کو سہارا دے سکیں۔ ماضی میں امریکا ارجنٹائن، یوراگوئے اور میکسیکو کو بھی اسی نوعیت کی معاونت فراہم کر چکا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہونے اور ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔اس وقت پاکستان 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی اصلاحات پر عمل کر رہا ہے، جن میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی اور دیگر معاشی اقدامات شامل ہیں۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ دوست ممالک کی مالی معاونت اور رول اوور سہولتوں پر بھی منحصر ہے۔رپورٹس کے مطابق رواں برس پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کیے، جبکہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کی نئی مالی سہولت فراہم کی۔

اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 20 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے، جس میں امریکی تعاون اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف معاشی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ ان میں سرحد پار ادائیگیوں کے لیے اسٹیبل کوائن منصوبہ، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِنو ترقی، اور ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی سرمایہ کاری جیسے اقدامات شامل ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…