اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام کی منظوری دیدی

datetime 20  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا روزانہ پرائسنگ نظام منظور کر لیا ہے،

جس کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرے گی۔ حکومت نے اوگرا کو ہدایت دی ہے کہ اس نئے نظام پر فوری طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔نئے طریقہ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خودکار انداز میں طے کی جائیں گی۔ اوگرا گزشتہ سات کاروباری دنوں کی اوسط عالمی قیمتوں کو بنیاد بنا کر روزانہ نرخ مقرر کرے گا اور انہیں اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کرے گا تاکہ عوام بروقت آگاہ رہ سکیں۔اس پالیسی کے بعد قیمتوں میں اضافے یا کمی کے لیے وزیراعظم یا کسی وزارت کی الگ منظوری درکار نہیں ہوگی۔ اوگرا کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مقررہ فارمولے کے مطابق بغیر سیاسی مداخلت کے نئی قیمتوں کا اعلان کرے۔حکومت نے ہفتہ اور اتوار کے لیے بھی طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔ ان دو دنوں کے دوران جمعہ کو جاری کی جانے والی قیمتیں ہی برقرار رہیں گی،

جس سے تعطیلات میں نرخوں میں بار بار تبدیلی سے بچا جا سکے گا۔ اسی نظام کا اطلاق مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں پر بھی ہوگا۔دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم لیوی کابینہ کی مقررہ حد سے زیادہ نہیں بڑھائی جا سکے گی، جبکہ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف وزارتِ خزانہ (فنانس ڈویژن) کی منظوری سے ممکن ہوگی۔نئی پالیسی کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کا اختیار صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے پاس ہوگا، جبکہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے مارکیٹ شیئر کے مطابق پیٹرول درآمد کر سکیں گی۔مزید برآں، اگر کوئی آئل مارکیٹنگ کمپنی درآمد یا مقامی سطح پر مصنوعات کی بروقت اپ لفٹمنٹ میں ناکام رہتی ہے تو اسے نو ماہ تک نئی درآمدی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ مارکیٹ میں سپلائی کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…