بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورائیرپورٹ سے تین ہائی پروفائل شخصیات امریکا فرارہوتے گرفتار

datetime 20  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حساس ادارے نے بجلی چوری اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے ایک بڑے مقدمے میں فیصل آباد کے معروف صنعت کار میاں ادریس اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے دو سابق سربراہان کو لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا۔

بعد ازاں تینوں ملزمان کو مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے فیصل آباد کے حوالے کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملزمان امریکا روانہ ہونے کی تیاری میں تھے۔ایئرپورٹ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے فیصل آباد نے 18 جولائی 2026 کو مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے تھے۔ آج جب وہ بیرون ملک جانے کے لیے لاہور ایئرپورٹ پہنچے تو انٹیلی جنس بیورو نے انہیں روک کر قانونی کارروائی کے بعد ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ایف آئی اے کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں مجموعی طور پر 13 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں فیسکو کے متعدد سابق چیف ایگزیکٹو افسران، نیپرا کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور نجی کمپنیوں سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے مبینہ ملی بھگت کے ذریعے بجلی کی خرید و فروخت میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔تحقیقات کے مطابق ایک نجی توانائی کمپنی کو مخصوص شرائط کے تحت بجلی پیدا کرنے کا لائسنس ملا تھا، تاہم الزام ہے کہ کمپنی نے ان شرائط سے تجاوز کرتے ہوئے فیسکو کو بجلی فروخت کی۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس دوران پاور پرچیز ایگریمنٹ، نیپرا کی منظوری، نرخوں کے تعین اور دیگر قانونی تقاضوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔تحقیقاتی ادارے نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بعض سرکاری افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نجی کمپنیوں کو غیر قانونی مالی فائدہ پہنچایا، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری نگرانی بھی مؤثر انداز میں انجام نہیں دی گئی۔مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قوانین اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے،

جن میں دھوکہ دہی، جعل سازی، اختیارات کے ناجائز استعمال، امانت میں خیانت اور جعلی دستاویزات کے استعمال جیسے الزامات شامل ہیں۔ایف آئی اے کے ایک تحقیقاتی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میاں ادریس کے خلاف مبینہ آئی پی پیز فراڈ سے متعلق الگ مقدمات بھی زیرِ تفتیش ہیں، جن میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور گیس و بجلی چوری کے الزامات شامل ہیں۔ ان کے مطابق ستارہ گروپ اور متعلقہ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007 سے 2015 کے دوران فیسکو کے بعض افسران کے ساتھ مبینہ سازباز کرتے ہوئے مہنگے نرخوں پر بجلی فروخت اور سستے نرخوں پر بجلی خرید کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، جبکہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…