جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان نے سعودی عرب سے 15 سال کی مدت کے لیے 6.7 ارب ڈالر کی رعایتی تیل فنانسنگ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے درخواست کردی

datetime 16  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان نے بڑھتی ہوئی عالمی توانائی کی غیر یقینی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کی رعایتی تیل فنانسنگ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ سہولت 15 سال کی مدت کے لیے حاصل کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ مستقبل میں تیل کی درآمدات کا مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔وزارتِ اقتصادی امور کی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان نے مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے لیے ایک فیصد شرحِ سود، پانچ سال کی رعایتی مدت اور مجموعی طور پر 15 سال میں ادائیگی کی تجویز پیش کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (SFD) کے ساتھ اس منصوبے پر مختلف سطحوں پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کو عالمی منڈی میں بلند تیل کی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے میں نمایاں سہولت مل سکتی ہے۔پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مؤخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کا سلسلہ 2019 سے جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت فروری 2025 میں ایک نیا معاہدہ ہوا تھا جس کے ذریعے 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی گئی، تاہم وہ سہولت اپریل 2025 میں اپنی مدت پوری کر چکی تھی۔حکام کے مطابق 2019 سے اب تک سعودی عرب پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 6.7 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کر چکا ہے۔ گزشتہ معاہدے کے تحت شرحِ سود تقریباً 6 فیصد تھی، جبکہ اب پاکستان مزید نرم شرائط حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں حالیہ ہفتوں کے دوران تقریباً 15 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر رعایتی شرائط پر یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے تو نہ صرف درآمدی ایندھن کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ کم ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں بھی کچھ حد تک کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران پاکستان نے تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ اگرچہ ایل این جی کی درآمدات میں کمی کے باعث مجموعی درآمدی بل میں اضافہ محدود رہا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں توانائی کی لاگت مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔سعودی عرب اس وقت چین کے بعد پاکستان کے بڑے مالی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔

حال ہی میں مملکت نے سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کے ذریعے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا قلیل مدتی ڈپازٹ بھی فراہم کیا تاکہ بیرونی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولت مل سکے۔اسی تناظر میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے ملاقات کی، جس میں اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔سرکاری حکام کے مطابق سعودی عرب پاکستان میں اپنے مالی ڈپازٹس برقرار رکھنے کے حوالے سے مسلسل تعاون کر رہا ہے، جبکہ جولائی کے آغاز تک پاکستان میں سعودی ڈپازٹس کا حجم تقریباً 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔اگرچہ آئی ایم ایف نے اپنی موجودہ مالیاتی رپورٹ میں آئندہ دو برسوں کی متوقع مالی آمدن میں اس نئی تیل سہولت کو شامل نہیں کیا، تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں یہ پاکستان کے لیے توانائی کی درآمدات پر آنے والے اضافی مالی دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔دوسری جانب سعودی عرب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران سعودی عرب سے پاکستان آنے والی ترسیلات تقریباً 9.8 ارب ڈالر رہیں، جو ملک کو موصول ہونے والی مجموعی رقوم کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…