بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے اہم خبر، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال

datetime 8  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کی قومی کرنسی ریال بدستور شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر کمزور ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق بلند افراطِ زر، اندرونی معاشی مشکلات اور عالمی حالات نے کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ریال کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔تازہ ترین اوپن مارکیٹ کے مطابق ایک امریکی ڈالر تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار سے 17 لاکھ 56 ہزار 500 ایرانی ریال کے درمیان خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح ایرانی معیشت پر موجود دباؤ اور کرنسی کی کمزور صورتحال کی واضح نشاندہی کرتی ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو لین دین کے دوران محتاط حکمت عملی اپنانا چاہیے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق امریکی پابندیاں، مہنگائی میں مسلسل اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، بیرونی تجارت میں مشکلات اور خطے کی کشیدہ صورتحال ایرانی کرنسی کی گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔ انہی عوامل کے باعث اوپن مارکیٹ کی شرح مبادلہ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ زیادہ تر تجارتی اور مالیاتی معاملات اسی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔

پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال انتہائی کمزور پوزیشن میں ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق ایک ایرانی ریال تقریباً 0.00020 پاکستانی روپے کے مساوی ہے، جبکہ ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4 ہزار 934 سے 6 ہزار 330 ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی خرید و فروخت تقریباً 7 ہزار 500 سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان ہو رہی ہے۔بعض سرمایہ کار مستقبل میں ایرانی ریال کی ممکنہ بہتری کی توقع پر اس کرنسی میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ ایک زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری تصور کی جاتی ہے، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل تحقیق اور احتیاط ضروری ہے۔معاشی تجزیہ کاروں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مالی لین دین یا کرنسی کے تبادلے سے پہلے تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق ریال کی قدر میں تیزی سے تبدیلی کا امکان موجود ہے، اس لیے صرف مستند ذرائع اور لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ہی لین دین کرنا زیادہ محفوظ رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…