جمعرات‬‮ ، 02 جولائی‬‮ 2026 

اسپین کا تاریخی امیگریشن منصوبہ، 10 لاکھ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن نے درخواستیں دے دیں

datetime 2  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک)اسپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو قانونی درجہ دینے کے لیے شروع کی گئی

خصوصی اسکیم کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے مطابق اس پروگرام کے تحت 10 لاکھ سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں، جو حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں یورپ کے کئی ممالک غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں، وہیں اسپین نے مختلف حکمتِ عملی اپناتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت نے بتایا کہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ منگل تھی اور اس مدت کے دوران ایک ملین سے زیادہ افراد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے رجوع کیا۔رپورٹ کے مطابق اپریل میں جب بائیں بازو کی حکومت نے اس منصوبے کا آغاز کیا تھا تو توقع کی جا رہی تھی کہ تقریباً پانچ لاکھ افراد اس سے مستفید ہوں گے، جن میں بڑی تعداد لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تھی۔ تاہم موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد اس تخمینے سے کہیں زیادہ رہی۔

میڈرڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کا آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بے شمار افراد قانونی شناخت اور بنیادی حقوق کے حصول کے خواہاں تھے۔انہوں نے کہا کہ جب کسی شخص کو قانونی حیثیت کے بغیر زندگی گزارنا پڑے تو اس کے منفی اثرات صرف اس فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد تارکین وطن کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اسپین کی پالیسی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسپین کو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، دیہی علاقوں میں آبادی کی کمی، لیبر مارکیٹ، معیشت، پنشن اور فلاحی نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے افرادی قوت کی ضرورت ہے، جس میں تارکین وطن اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ درخواست جمع کرانے والے تمام افراد کو خودکار طور پر قانونی حیثیت نہیں دی جائے گی۔ ہر درخواست گزار کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں اور وہ یکم جنوری سے قبل کم از کم مسلسل پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسپین کی یہ پالیسی یورپ میں امیگریشن سے متعلق جاری بحث کو مزید شدت دے سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف کئی یورپی ممالک قوانین سخت کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اسپین نسبتاً نرم اور انسانی ہمدردی پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چین کا نظام


ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…