بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص، صارفین 86 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور

datetime 29  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد( این این آئی)بجلی کے ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص کا بوجھ عوام برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں تفصیلات سامنے آ گئیں ۔ آڈٹ حکام نے پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود سستی بجلی صارفین تک نہ پہنچائے جانے پر سوالات اٹھا دیئے۔نجی ٹی وی کے مطابق آڈٹ رپورٹ 2025-26میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیداواری صلاحیت کے باوجود ٹرانسمیشن لائنیں نہ بچھانا کپیسٹی پیمنٹ بڑھنے کی بڑی وجہ ہے ۔ مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کی ترسیلی صلاحیت 4 ہزار میگاواٹ ہے لیکن اس کو محض 47 فیصد صلاحیت پر چلایا جاتا رہا ۔

ٹرانسمیشن لائن کو مکمل استعداد پر نہ چلانے سے صارفین پر 86 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا ۔ رپورٹ کے مطابق تقسیم کارکمپنیوں کے 500 اور 220 کے وی کے اکثر ٹرانسفارمر پر اضافی بوجھ ہے۔سسٹم کو رسک سے بچانے کیلئے بجلی تقسیم کار کمپنیاںلوڈشیڈنگ کرتی ہیں۔ ٹرانسمیشن سسٹم کے نقائص کے باعث کپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم 1900 ارب تک پہنچ چکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…