بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل ملز میں سرکاری اہلکاروں کی بڑے چوری گینگ کی معاونت کا انکشاف

datetime 15  جون‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)پاکستان اسٹیل ملز میں سرکاری اداروں کے درجنوں اہلکاروں کی بڑے چوری گینگ کی معاونت کا انکشاف سامنے آگیا۔

سندھ پولیس کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بند اسٹیل ملز سے چوروں کے ایک گینگ نے سینکڑوں ٹن قیمتی لوہا چوری کیا، اسٹیل ملزمیں چوری گینگ کی انکوائری وزارت صنعت کی درخواست پر کی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اسٹیل ملزسے پچھلے پانچ سال میں لگ بھگ دوسوپچاس ٹن وزنی قیمتی سامان چوری ہوا ہے، اسٹیل ملز کے ایک سینئر اہلکار کا دعوی ہے کہ چوری شدہ اسٹیل اورلوہے کی قیمت 20 ارب سے زائد ہے،پچھلے پانچ سال میں اسٹیل ملزسے چوری کرنے والے 857 ملزمان کیخلاف 201 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔وفاقی وزارت صنعت نے یہ سرکاری دستاویزات بشمول انکوائری رپورٹ ایوان زیریں کے جواب میں جمع کرائی، رپورٹ کے مطابق چوری کرنے والوں میں اسٹیل ملزکے چار درجن اورسندھ پولیس کے 15 پولیس اہلکار اور اسپیشل فورس کے پانچ اہلکار شامل ہیں۔وزارت صنعت نے چوری کے واقعات کی تحقیقات کیلئے سندھ حکومت، آئی جی سندھ اورایف آئی اے کوتحقیقات کیلیے الگ الگ خطوط بھی لکھے تھے۔

پچھلے چھ ماہ میں 223 ملزمان کیخلاف 51 چوری کے مقدمات درج ہوئے، پچھلے سال 250 ملزمان کیخلاف 55 چوری مقدمات درج کیے گئے۔سال 2024 میں 73 ملزمان کیخلاف 27 چوری کے مقدمات درج کیے گئے جبکہ سال 2023 میں 50 ملزمان کیخلاف 18 مقدمات درج کیے گئے۔اسٹیل ملزسے چوری کے جرم میں چھ پولیس اہلکار نوکری سے فارغ ہوئے ، اسٹیل ملزکے ڈائریکٹرایڈمن کیخلاف بھی انکوائری شروع کی گئی ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار پچیس میں چوری کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں، سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ اسٹیل ملزسے چوری شدہ اسٹیل اورلوہا ایک بائیس ویلرٹرالی کے ذریعے مل سے باہر منتقل کیا گیا۔مجموعی طور پر ڈھائی سو ملزمان کو نامزد کیا گیا اور ساٹھ ہزار چار سو بیس کلوگرام چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا،غفلت یا مبینہ ملی بھگت پر پندرہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔23پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی،چوری میں مبینہ طور پر اسٹیل ملز کے اپنے ملازمین کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل منیجر اسٹورز سمیت چار ملازمین کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ملزمان سی بی پلانٹ سے چھتیس ہزار کلوگرام قیمتی مشینری اور پرزہ جات چوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔تحقیقات میں اسٹیل ملز کے ایک سیکیورٹی گارڈ کے چوروں کی معاونت میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جبکہ بعض اعلی انتظامی شخصیات کے کردار کی بھی چھان بین جاری ہے۔پاکستان اسٹیل ملز میں چوری کے تمام واقعات کی جامع تحقیقات کے لیے سندھ پولیس اور ایف آئی اے کراچی نے ایک ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام پہلوں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اعلی حکام کو پیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…