منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

گندم کی قیمت 4200روپے فی من تک پہنچ گئی ، آٹا اور روئی مزید مہنگی

datetime 9  جون‬‮  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)پنجاب کی غلہ منڈیوں میں گندم کی قیمت 4 ہزار سے 4 ہزار 200 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے،

جبکہ مارکیٹ میں آٹے اور روٹی کی قیمتیں بھی بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں سادہ روٹی، جس کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے، 16 سے 20 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے، ضلعی انتظامیہ گراں فروشی پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں 10 کلو آٹے کا تھیلا 1200 روپے تک جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ تندور مالکان کا کہنا ہے کہ مہنگا آٹا خرید کر سستی روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں۔ چند ماہ قبل 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1810 روپے تک فروخت ہو رہا تھا۔ذرائع کے مطابق صوبے کے متعدد اضلاع میں سادہ روٹی کی قیمت 20 روپے تک پہنچ چکی ہے، حالانکہ اس کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں سادہ روٹی مختلف نرخوں پر فروخت کی جا رہی ہے، کہیں 16 روپے، کہیں 18 روپے اور متعدد تندوروں پر 20 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔تندور مالکان کا مؤقف ہے کہ حکومت سبسڈی فراہم کرے تو ہی سرکاری نرخ پر روٹی فروخت کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب لاہور کی ضلعی انتظامیہ اپنی رٹ قائم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔ آٹا اور روٹی ازخود مہنگی کیے جانے سے شہریوں کی جیبوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اسی طرح چکی کا آٹا 175 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…