بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں بچت 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف

datetime 8  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں بچت کی شرح 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ پاکستانی عوام ہر 100 روپے آمدنی میں سے صرف چھ روپے بچا رہے ہیں۔

یہ انکشاف پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)کی رپورٹ میں کیا گیا کہ رپورٹ میں پائیڈ نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں قومی بچت مہم شروع کرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے طویل مدتی بچت اسکیموں پر دوبارہ ٹیکس مراعات دینے، چھوٹے بچت کنندگان کے تحفظ، قومی بچت مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانے اورسالانہ سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ بنانے کی تجاویز دیدی ہیں۔پائیڈ کی رپورٹ میں کہاگیا کہ کم بچت کی شرح ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیل رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستانی عوام ہر 100 روپے آمدن میں صرف 6 روپے بچا رہے ہیں جبکہ مہنگائی اور کم منافع کے باعث عوام کا رجحان بینکوں کے بجائے سونا،جائیداد اور نقدی کی طرف بڑھ رہا ہے۔پائیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کم بچت کی شرح ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیل رہی ہے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی بچت کی شرح 6.4 فیصد ہے،جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 21فیصد، بھارت میں 28 فیصد اور ویتنام میں تقریبا 30 فیصد کے قریب ہیرپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت کی زیادہ قرض گیری نجی شعبیکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

کم بچت سے پاکستان کو بارباربیرونی قرضوں،آئی ایم ایف پروگرام کی طرف دھکیل رہی ہیں مہنگائی اورکم منافع کے باعث عوام بینکوں کا کم رخ کرتیہیں،لوگ سونا، جائیداد اور نقد رقم کو ترجیح دیرہے ہیں۔ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کا خدشہ ہے ،پائیڈ نے بجٹ 27-2026 میں قومی بچت مہم شروع کرنیکا مطالبہ کیا اور تجویزدی کہ طویل مدتی بچت اسکیموں پردوبارہ ٹیکس مراعات دی جائیں۔خواتین، پینشنرز اورغیر رسمی شعبے کے کارکنوں کیلئے خصوصی بچت مراعات کی بھی تجویز دی، چھوٹے بچت کنندگان کے تحفظ اورقومی بچت مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانے کی سفارش کی گئی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ دوسروں کے پیسوں سے مستقبل چلانے کا ماڈل مزید نہیں چل سکتا،بچت کو محفوظ، منافع بخش اورآسان بنایا جائے تو پاکستانی زیادہ بچت کریں گے،پائیڈ نے سالانہ سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ بنانے کی بھی تجویز دے دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…