اسلام آباد (نیوز ڈیسک )حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں کا نیا ڈھانچہ متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت بجلی کے استعمال کی مقدار کے مطابق مختلف چارجز عائد کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ پالیسی کا مقصد صنعتوں کو قومی گرڈ سے منسلک رکھنے اور بجلی کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پاور ڈویژن سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت کم بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کے لیے فکسڈ چارجز میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو فی یونٹ نسبتاً کم نرخ پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اطلاعات کے مطابق صنعتی بجلی کے نرخ 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ اس اقدام سے صنعتیں سولر توانائی یا متبادل ذرائع کی جانب منتقلی کے بجائے قومی گرڈ کا استعمال جاری رکھیں گی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ٹیرف پلان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کیا جا چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے ان صنعتوں کے اعداد و شمار طلب کیے ہیں جو بجلی کے استعمال میں کمی کر چکی ہیں یا قومی گرڈ سے علیحدگی اختیار کر رہی ہیں۔
حکومتی منصوبے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس نئی پالیسی کا اطلاق صرف صنعتی صارفین پر ہوگا، جبکہ بعد میں اسے کمرشل اور گھریلو شعبوں تک وسعت دی جا سکتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ اس اقدام سے بجلی کی مجموعی طلب میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نظام اور قومی گرڈ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسی پالیسی ناگزیر ہے، جبکہ اس کا بنیادی مقصد صنعتوں کو گرڈ سے منسلک رکھنا اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام پیدا کرنا ہے۔



















































