منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے پاکستانی مسا فروں کیلئے اہم فیچرمتعارف کرادیا

datetime 2  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ نے مسافروں کے گمشدہ یا تاخیر سے آنے والے

بیگیج کی تلاش کیلئے گوگل کا Find Hub شیئر مائی آئٹم فیچر متعارف کرایا ہے ،تا کہ مسافروں کو ان کے بیگیج کے حوالے سے باخبر رکھے جانے سے متعلق ایئر لائن کی ٹیموں کو معاونت فراہم کی جاسکے۔ اس فیچر کے ذریعے ہم آہنگ ٹریکر ٹیگ یا بلوٹوتھ ایسیسریزاستعمال کرنے والے پاکستانی مسافر ایک محفوظ اور عارضی لنک تیار کر سکیںگے اور مسافروں کے سامان کے دعوے کے ریکارڈ کے ساتھ مشترکہ لنک منسلک کر کے تاخیر یا گمشدہ بیگ کی اطلاع دیتے وقت براہ راست سعودیہ کے ساتھ اپنے سامان کی جگہ شیئر کی جاسکے گی۔ یہ مشترکہ لنک گمشدہ سامان کے محل وقوع کی معلومات تک محدود وقت تک رسائی فراہم کرے گا ، جس سے ایئر لائن کے عملے کو زیادہ مؤثر طریقے سے سامان کی شناخت او ر ا س کی تلاش میں مددملے گی۔مسافر کسی بھی وقت اپنے سامان کے مقام کی شیئرنگ روک سکتے ہیں جبکہ سات روز کے بعد یہ شیئرنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔یہ اضافی فیچر سعودیہ کے موجودہ سامان کی وصولی کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو ان کی معلومات پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے زیادہ اعتماد اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔سعودیہ کے چیف گیسٹ ایکسپیرئنس افسر Rossen Dimitrov کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ”ہماری توجہ اس پر ہے کہ اپنے مسافروں کو ان کے سفر کے دوران اعتماد اور یقین دہانی دلائی جاسکے۔ اس طرح کے اقدامات ہمارے سفری تجربے کے ہر مرحلے پر مسافروں کو باخبر اور تحفظ کے احساس کے حوالے سے ہماری وسیع تر عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ اقدام یقینی طور پر اپنے مسافروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں ذہنی سکون فراہم کرنے سے متعلق ہے۔”سعودیہ اس فیچر کو اپنانے والی دنیا کی پہلی ایئر لائنز میں شامل ہے،

جس نے اپنی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی اپنائی تاکہ مسافروں کو زیادہ مربوط سفری تجربات فراہم کیے جاسکیں۔شیئر آئٹم لوکیشن فیچر کو انتہائی رازداری کے ساتھ بنایا گیا ہے۔بیگیج کے مقام کی معلومات کا اشتراک صرف ایک محدود وقت کے لیے ایئر لائن کے ساتھ کیا جاتا ہے، یہ صرف سامان کی وصولی کے مقصد کے لیے قابل رسائی ہے، اور جب یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے یا مسافر شیئرنگ بند کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو یہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔پاکستان میں مسافر اس فیچر تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا ڈیوائس اور ٹریکر ایکسیسری مطابقت رکھتے ہوں اور تازہ ترین معاونت یافتہ سافٹ ویئر ورژنز پر اپڈیٹ ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…