منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے ایک ہی روز میں 47کروڑ کمالیے

datetime 16  فروری‬‮  2026 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے تحت گاڑیوں کے

من پسند چوائس نمبر پلیٹس کے منفرد منصوبے کی دوسری نیلامی میں خواہشمند بولی دہندہ گان نے قومیتی اور علاقائی ناموں کے نمبروں پر کروڑوں روپے کی شاندار بولی لگا دی۔ایک ہی روز میں 47 کروڑ اور 3 لاکھ روپے کی مجموعی بولی دی گئی جس میں کل 30 نمبرات شامل تھے۔ارینا ہال،قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقدہ نیلامی میں سب سے زیادہ بولی “داوڑ 1” چوائس نمبر پلیٹ پر 17 کروڑ اور 50 لاکھ روپے دی گئی جسے انضمام الحق نامی شہری نے خریدا۔دوسری بڑی بولی “اورکزئی 1″ نمبر پلیٹ پر دی گئی جسے سابق سنیٹر اور ایم پی اے اورنگزیب خان نے 4 کروڑ اور 10 لاکھ روپے میں خریدا۔ وزیرستان 1” نمبر پلیٹ 4 کروڑ اور 6 لاکھ روپے میں نیلام ہوا جسے فیض الرحمان نے خریدا جبکہ “مہمند 1” چوائس نمبر پلیٹ 3 کروڑ اور 21 لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔ نیلامی کی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان،دیگر ڈائریکٹرز اور محکمہ ایکسائز کے افسران نے شرکت کی۔نیلامی میں “باجوڑ 1” نمبر پلیٹ 3 کروڑ اور 35 لاکھ روپے میں عباس شاہ نے خریدا جبکہ “خیبر 1” نمبر پلیٹ 2 کروڑ اور 1 لاکھ روپے میں نیلام ہوا جو حاجی اختیار محمد نے خریدا, “محسود 1” نمبر پلیٹ 2 کروڑ اور 20 لاکھ روپے میں عباس خان محسود نے حاصل کیا جبکہ “گجر 1″ نمبر پلیٹ 1 کروڑ اور 63 لاکھ روپے میں رضا خان گجر نے خرید لیا۔”پشتون 1” نمبر پلیٹ 1 کروڑ اور 32 لاکھ روپے میں امیر اللہ نامی شہری نے خریدا۔

“بونیر 1″ چوائس نمبر پلیٹ 95 لاکھ میں ملک اسد خان،”مردان 1” حافظ شیر رحمان نے 68 لاکھ اور “دیر 1″ محمد طاہر خان نے 67 لاکھ میں خرید لیا۔”جدون 1” سمیع اللہ نے 71 لاکھ اور “خلیل 1” گل زیب نے 65 لاکھ میں خریدا۔ “خٹک 1” محمد فیضان نے 61 لاکھ روپے جبکہ “تاج 1” فیاض احمد خان نے 42 لاکھ روپے میں خرید لیا۔

“کوہاٹ 1” نمبر پلیٹ 43 لاکھ روپے، “شیخ 1” کا نمبر 27 لاکھ روپے، “سوات 1″ نمبر پلیٹ 30 لاکھ روپے،”ایبٹ آباد 1” نمبر پلیٹ 17 لاکھ، “مروت 1” نمبر پلیٹ 26 لاکھ روپے اور “سید 1” نمبر پلیٹ 33 لاکھ میں فروخت ہوا جبکہ “کلاچی 1” نمبر پلیٹ پر 25 لاکھ روپے کی بولی لگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…